مرکزی مواد پر جائیں
صحیح مسلم کی طرف واپس

صحیح مسلم #3779

مسلسل نمبر: 3779 · کتاب 20، حدیث 10

100%
زیرِ جائزہ

‏ اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا وَاشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلاَءَ فَإِنَّ الْوَلاَءَ لِمَنْ أَعْتَقَ ‏"‏ ‏.‏ فَفَعَلْتُ - قَالَتْ - ثُمَّ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَشِيَّةً فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَمَّا بَعْدُ فَمَا بَالُ أَقْوَامٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَا كَانَ مِنْ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَهُوَ بَاطِلٌ وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ كِتَابُ اللَّهِ أَحَقُّ وَشَرْطُ اللَّهِ أَوْثَقُ مَا بَالُ رِجَالٍ مِنْكُمْ يَقُولُ أَحَدُهُمْ أَعْتِقْ فُلاَنًا وَالْوَلاَءُ لِي إِنَّمَا الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ‏"‏ ‏.‏

اردو ترجمہ

ابواسامہ نے کہا : ہمیں ہشام بن عروہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : مجھے میرے والد نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی ، انہوں نے کہا : بریرہ میرے پاس آئی اور کہنے لگی : میرے مالکوں نے میرے ساتھ 9 سالوں میں 9 اوقیہ ( کی ادائیگی ) کے بدلے مکاتبت کی ہے ۔ ہر سال میں ایک اوقیہ ( ادا کرنا ) ہے ۔ میری مدد کریں ۔ میں نے اس سے کہا : اگر تمہارے مالک چاہیں کہ میں انہیں یکمشت گن کر دوں اور تمہیں آزاد کر دوں اور ولاء کا حق میرا ہو ، تو میں ایسا کر لوں گی ۔ اس نے یہ بات اپنے مالکوں سے کی تو انہوں نے ( اسے ماننے سے ) انکار کر دیا الا یہ کہ حقِ ولاء ان کا ہو ۔ اس کے بعد وہ میرے پاس آئی اور یہ بات مجھے بتائی ۔ کہا : تو میں نے اس پر برہمی کا اظہار کیا ، اور کہا : اللہ کی قسم! پھر ایسا نہیں ہو سکتا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سنی تو مجھ سے پوچھا ، میں نے آپ کو ( پوری ) بات بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اسے خریدو اور آزاد کر دو ، ان کے لیے ولاء کی شرط رکھ لو ، کیونکہ ( اصل میں تو ) ولاء کا حق اسی کا ہے جس نے آزاد کیا ۔ " میں نے ایسا ہی کیا ۔ کہا : پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کے وقت خطبہ دیا ، اللہ کی حمد و ثنا جو اس کے شایانِ شان تھی بیان کی ، پھر فرمایا : " امابعد! لوگوں کو کیا ہوا ہے؟ وہ ایسی شرطیں رکھتے ہیں جو اللہ کی کتاب میں ( جائز ) نہیں ۔ جو بھی شرط اللہ کی کتاب میں ( روا ) نہیں ، وہ باطل ہے ، چاہے وہ سو شرطیں ہوں ، اللہ کی کتاب ہی سب سے سچی اور اللہ کی شرط سب سے مضبوط ہے ۔ تم میں سے بعض لوگوں کو کیا ہوا ہے ، ان میں سے کوئی کہتا ہے : فلاں کو آزاد تم کرو اور حقِ ولاء میرا ہو گا ۔ ( حالانکہ ) ولاء کا حق اسی کا ہے جس نے آزاد کیا

انگریزی ترجمہ

Emancipate so and so, but the right of inheritance vests in me"? Verily, the right of inheritance vests in one who emancipates

سند دیکھیں

وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ، بْنُ عُرْوَةَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ دَخَلَتْ عَلَىَّ بَرِيرَةُ فَقَالَتْ إِنَّ أَهْلِي كَاتَبُونِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ فِي تِسْعِ سِنِينَ فِي كُلِّ سَنَةٍ أُوقِيَّةٌ ‏.‏ فَأَعِينِينِي ‏.‏ فَقُلْتُ لَهَا إِنْ شَاءَ أَهْلُكِ أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ عَدَّةً وَاحِدَةً وَأُعْتِقَكِ وَيَكُونَ الْوَلاَءُ لِي فَعَلْتُ ‏.‏ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لأَهْلِهَا فَأَبَوْا إِلاَّ أَنْ يَكُونَ الْوَلاَءُ لَهُمْ فَأَتَتْنِي فَذَكَرَتْ ذَلِكَ قَالَتْ فَانْتَهَرْتُهَا فَقَالَتْ لاَهَا اللَّهِ إِذَا قَالَتْ ‏.‏ فَسَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَنِي فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ ‏

اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔