مرکزی مواد پر جائیں
صحیح مسلم کی طرف واپس

صحیح مسلم #303

مسلسل نمبر: 303 · کتاب 1، حدیث 209

100%
زیرِ جائزہ

‏ لَيْسَ عَلَى رَجُلٍ نَذْرٌ فِيمَا لاَ يَمْلِكُ وَلَعْنُ الْمُؤْمِنِ كَقَتْلِهِ وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَىْءٍ فِي الدُّنْيَا عُذِّبَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنِ ادَّعَى دَعْوَى كَاذِبَةً لِيَتَكَثَّرَ بِهَا لَمْ يَزِدْهُ اللَّهُ إِلاَّ قِلَّةً وَمَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ فَاجِرَةٍ ‏"‏ ‏.‏

اردو ترجمہ

ہشام دستوائی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے سابقہ سند کے ساتھ حدیث سنائی کہ حضرت ثابت بن ضحاک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : ’’ جس چیز کا انسان مالک نہیں ہے ، اس کےبارے میں ( مانی ہوئی ) نذر اس کے ذمے نہیں ہے ۔ مومن پر لعنت بھیجنا ( گناہ کے اعتبار سے ) اس کے قتل کے مترادف ہے اور جس نے کسی چیز سے اپنے آپ کو قتل کیا ، قیامت کے دن اسی چیز سے اس کو عذاب دیا جائے گا ، اور جس نے ( مال میں ) اضافے کے لیے جھوٹا دعویٰ کیا ، اللہ تعالیٰ اس ( کے مال ) کی قلت ہی میں اضافہ کرے گا اور جس نے ایسی قسم جو فیصلے کے لیے ناگزیر ہو ، جھوٹی کھائی ( اس کا بھی یہی حال ہو گا ۔ ) ‘ ‘

انگریزی ترجمہ

It is narrated on the authority of Thabit b. al-Dahhak that the Messenger of Allah (ﷺ) observes:None is obliged to give votive offering (of a thing) which is not in his possession and the cursing of a believer is tantamount to killing him, and he who killed himself with a thing in this world would be tormented with that (very thing) on the Day of Resurrection, and he who made a false claim to increase (his wealth), Allah would make no addition but that of paucity, and he who perjured would earn the wrath of God

سند دیکھیں

حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، - وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ - قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو قِلاَبَةَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏

اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔