مرکزی مواد پر جائیں
صحیح مسلم کی طرف واپس

صحیح مسلم #2601

مسلسل نمبر: 2601 · کتاب 13، حدیث 107

100%
زیرِ جائزہ

‏ لِمَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَطِئْتُ امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ نَهَارًا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ تَصَدَّقْ تَصَدَّقْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ مَا عِنْدِي شَىْءٌ ‏.‏ فَأَمَرَهُ أَنْ يَجْلِسَ فَجَاءَهُ عَرَقَانِ فِيهِمَا طَعَامٌ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَتَصَدَّقَ بِهِ ‏.‏

اردو ترجمہ

محمد بن رمح ، ابن مہاجر ، لیث ، یحییٰ بن سعید ، عبدالرحمان بن قاسم ، محمد بن جعفر ، ابن زبیر ، عباد بن عبداللہ بن زبیر ، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے عرض کیا میں تو جل گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں؟اس نے عرض کی کہ میں نے رمضان کے دنوں میں اپنی بیوی سے ہم بستری کرلی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صدقہ کر ، صدقہ کر ، اس آدمی نے عرض کیا کہ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم فرمایا کہ وہ بیٹھ جائے تو آپ کی خدمت میں دو ٹوکرے آئے جس میں کھانا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کو حکم فرمایا کہ اس کو صدقہ کرو ۔

انگریزی ترجمہ

A'isha (Allah be pleased with her) reported that a person came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said:I am burnt, whereupon the Messenger of Allah (ﷺ) said: How is it? He (the person) said: I had intercourse with my wife during the day in Ramadan. Upon this (the Holy Prophet) said: Give charity, give charity. He (the person) said: There is nothing with me. He commanded him to sit down, (In the meanwhile) there were brought to him (to the Holy Prophet) two baskets containing eatables, whereupon the Messenger of Allah (ﷺ) told him to give them as sadaqa

سند دیکھیں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ، الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - أَنَّهَا قَالَتْ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ احْتَرَقْتُ ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏

اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔