مرکزی مواد پر جائیں
صحیح مسلم کی طرف واپس

صحیح مسلم #2465

مسلسل نمبر: 2465 · کتاب 12، حدیث 202

100%
زیرِ جائزہ

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُمَا - قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ ذَكَرَ الْخَوَارِجَ فَقَالَ فِيهِمْ رَجُلٌ مُخْدَجُ الْيَدِ - أَوْ مُودَنُ الْيَدِ أَوْ مَثْدُونُ الْيَدِ - لَوْلاَ أَنْ تَبْطَرُوا لَحَدَّثْتُكُمْ بِمَا وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ يَقْتُلُونَهُمْ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم - قَالَ - قُلْتُ آنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم قَالَ إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ‏.‏

اردو ترجمہ

ایو ب نے محمد سے انھوں نے عبیدہ سے اور انھوں نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے خوارج کا ذکر کیا اور کہا : ان میں ایک آدمی ناقص چھوٹے یا زیادہ اور ہلتے ہو ئے گو شت کے ( جیسے ) ہاتھ والا ہو گا اگر تمھا رے اترا نے کا ڈر نہ ہو تا تو جو کچھ اللہ تعا لیٰ نے انھیں قتل کرنے والوں کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے وعدہ فر ما یا ہے وہ میں تمھیں بتا تا ۔ ( عبیدہ نے ) کہا میں نے عرض کی : کیا آپ نے یہ ( وعدہ برا راست ) محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ؟ انھوں نے کہا : رب کعبہ کی قسم! ہاں رب کعبہ قسم !ہاں رب کعبہ کی قسم !ہاں

انگریزی ترجمہ

Abida narrated from 'Ali that he made a mention of the Khawarij (and in this connection) said that there would be a person among them with a defective hand (or with a short hand) or a fleshy hand. If you were to exercise restraint, I would tell you what Allah has promised to those who would kill them on the order of Muhammad (ﷺ). I (the narrator) said to him:Did you hear it from Muhammad (ﷺ)? He (Hadrat 'Ali) said: Yes, by the Lord of the Ka'bah; Yes, by the Lord of the Ka'bah; yes, by the Lord of the Ka'bah

سند دیکھیں

اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔