مرکزی مواد پر جائیں
صحیح مسلم کی طرف واپس

صحیح مسلم #2225

مسلسل نمبر: 2225 · کتاب 0، حدیث 0

100%
زیرِ جائزہ

‏ أَلَيْسَتْ نَفْسًا ‏"‏ ‏.‏ وَحَدَّثَنِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَفِيهِ فَقَالاَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَمَرَّتْ عَلَيْنَا جَنَازَةٌ ‏.‏

اردو ترجمہ

شعبہ نے عمرو بن مرہ سے اور انھوں نے ابن ابی لیلیٰ سے روایت کی کہ حضرت قیس بن سعد اور سہل بن حنیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ قادسہ میں ( مقیم ) تھے کہ ان کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو وہ دونوں کھڑے ہوگئے اس پر ان دونوں سے کہا گیا کہ وہ اسی زمین ( کے ذمی ) لوگوں میں سے ہے تو ان دونوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی گئی : یہ تو یہودی ( کا جنازہ ) ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا یہ ایک جان نہیں

انگریزی ترجمہ

It is narrated on the authority of Ibn Abu Laila that while Qais b. Sa'd and Sahl b. Hunaif were both in Qadislyya a bier passed by them and they both stood up. They were told that it was the bier of one of the people of the land (non-Muslim). They said that a bier passed before the Prophet (ﷺ) and he stood up. He was told that he (the dead man) was a Jew. Upon this he remarked:Was he not a human being or did he not have a soul? And in the hadith narrated by 'Amr b. Murra with the same chain of transmitters, (the words) are:" There passed a bier before us

سند دیکھیں

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، أَنَّ قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ، وَسَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ، كَانَا بِالْقَادِسِيَّةِ فَمَرَّتْ بِهِمَا جَنَازَةٌ فَقَامَا فَقِيلَ لَهُمَا إِنَّهَا مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ ‏.‏ فَقَالاَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرَّتْ بِهِ جَنَازَةٌ فَقَامَ فَقِيلَ إِنَّهُ يَهُودِيٌّ ‏.‏ فَقَالَ ‏

اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔