مرکزی مواد پر جائیں
صحیح مسلم کی طرف واپس

صحیح مسلم #2200

مسلسل نمبر: 2200 · کتاب 11، حدیث 78

100%
زیرِ جائزہ

‏ وَجَبَتْ وَجَبَتْ وَجَبَتْ ‏"‏ ‏.‏ وَمُرَّ بِجَنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرٌّ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَجَبَتْ وَجَبَتْ وَجَبَتْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عُمَرُ فِدًى لَكَ أَبِي وَأُمِّي مُرَّ بِجَنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرًا فَقُلْتَ وَجَبَتْ وَجَبَتْ وَجَبَتْ ‏.‏ وَمُرَّ بِجَنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرٌّ فَقُلْتَ وَجَبَتْ وَجَبَتْ وَجَبَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ خَيْرًا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ وَمَنْ أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ شَرًّا وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الأَرْضِ أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الأَرْضِ أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الأَرْضِ ‏"‏ ‏.‏

اردو ترجمہ

عبد العزیز بن صہیب نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ایک جنازہ گزرا تو اس کی اچھی صفت بیان کی گئی اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " واجب ہو گئی واجب ہو گئی واجب ہو گئی ، اس کے بعد ایک اور جنازہ گزرا تو اس کی بری صفت بیان کی گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " واجب ہو گئی واجب ہو گئی واجب ہو گئی اس پرحضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : آپ پر میرے ماں باپ فدا ہوں! ایک جنازہ گزرا اور اس کی اچھی صفت بیان کی گئی تو آپ نے فر ما یا : " واجب ہو گئی واجب ہو گئی واجب ہو گئی ۔ ایک اور جنازہ گزرا اور اس کی بری صفت بیان کی گئی تو آپ نے فر ما یا واجب ہو گئی واجب ہو گئی واجب ہو گئی " ( اس کا مطلب کیا ہے؟ ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جس کی تم لو گوں نےاچھی صفت بیان کی اس کے لیے جنت واجب ہو گئی اور جس کی تم نے بری صفت بیان کی اس کے لیے آگ واجب ہو گئی تم زمین میں اللہ کے گواہ ہو تم زمین میں اللہ کے گواہ ہو تم زمین میں اللہ کے گواہ ہو ۔

انگریزی ترجمہ

Anas b. Malik reported:There passed a bier (being carried by people) and it was lauded in good terms. Upon this the Messenger of Allah (ﷺ) said: It has become certain, it has become certain, it has become certain. And there passed a bier and it was condemned in bad words. Upon this the Messenger of Allah (ﷺ) said: It has become certain, it has become certain, it has become certain. 'Umar said: May my father and mother be ransom for you! There passed a bier and it was praised in good terms, and you said: It has become certain, it has become certain, it has become certain. And there passed a bier and it was condemned in bad words, and you said: It has become certain, it has become certain, it has become certain. Upon this the Messenger of Allah (way peace be upon him) said: He whom you praised in good terms, Paradise has become certain for him, and he whom you condemned in bad words, Hell has become certain for him. You are Allah's witnesses in the earth, you are Allah's witnesses in the earth, you are Allah's witnesses in the earth

سند دیکھیں

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، بْنُ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ مُرَّ بِجَنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرٌ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏

اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔