مرکزی مواد پر جائیں
صحیح مسلم کی طرف واپس

صحیح مسلم #2189

مسلسل نمبر: 2189 · کتاب 11، حدیث 67

100%
زیرِ جائزہ

‏ مَنْ شَهِدَ الْجَنَازَةَ حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهَا فَلَهُ قِيرَاطٌ وَمَنْ شَهِدَهَا حَتَّى تُدْفَنَ فَلَهُ قِيرَاطَانِ ‏"‏ ‏.‏ قِيلَ وَمَا الْقِيرَاطَانِ قَالَ ‏"‏ مِثْلُ الْجَبَلَيْنِ الْعَظِيمَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ انْتَهَى حَدِيثُ أَبِي الطَّاهِرِ وَزَادَ الآخَرَانِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ قَالَ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُصَلِّي عَلَيْهَا ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَلَمَّا بَلَغَهُ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لَقَدْ ضَيَّعْنَا قَرَارِيطَ كَثِيرَةً ‏.‏

اردو ترجمہ

ابو طا ہر حرملہ یحییٰ اور ہارون بن سعید ایلی ۔ ۔ ۔ اس روایت کے الفا ظ ہارون اور حرملہ کے ہیں ۔ ۔ ۔ میں سے ہارون نے کہا : ہمیں حدیث سنا ئی اور دو سرے دو نوں نے کہا : ہمیں ابن وہب نے خبر دی ، انھوں نے نے کہا : مجھے یو نس نے ابن شہاب سے خبر دی کہا : مجھے عبد الرحمان بن ہر مزا عرج نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" جو شخص جنا زے میں شریک رہا یہاں تک کہ نماز جنا زہ ادا کر لی گئی تو اس کے لیے ایک قیراط ہے اور جو اس ( جنازے ) میں شریک رہاحتیٰ کہ اس کو دفن کر دیا گیا تو اس کے لیے دو قیراط ہیں ۔ "" پوچھا گیا : دو قیراط سے کہا مراد ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" دو بڑے پہاڑوں کے مانند ۔ ابو طا ہر کی حدیث یہاں ختم ہو گئی ۔ دوسرے دو اساتذہ نے اضافہ کیا : ابن شہاب نے کہا : سالم بن عبد اللہ بن عمرنے کہا : کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نماز جنازہ پڑھ کر لو ٹ آتے تھے جب ان کو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث پہنچی تو انھوں نے نے کہایقیناًہم نے بہت سے قیراطوں میں نقصان اٹھا یا ۔

انگریزی ترجمہ

We have lost many qirats

سند دیکھیں

وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، - وَاللَّفْظُ لِهَارُونَ وَحَرْمَلَةَ - قَالَ هَارُونُ حَدَّثَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هُرْمُزَ الأَعْرَجُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏

اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔