مرکزی مواد پر جائیں
سنن ابن ماجہ کی طرف واپس

سنن ابن ماجہ #2666

مسلسل نمبر: 2666 · کتاب 21، حدیث 52

100%
زیرِ جائزہ
صحیحSahih (Al-Albani)

‏ أَقَتَلَكِ فُلاَنٌ ‏"‏ ‏.‏ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ لاَ ثُمَّ سَأَلَهَا الثَّانِيَةَ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ لاَ ثُمَّ سَأَلَهَا الثَّالِثَةَ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ نَعَمْ فَقَتَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ حَجَرَيْنِ ‏.‏

اردو ترجمہ

ایک یہودی نے ایک لڑکی کو اس کے زیورات کی خاطر مار ڈالا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکی سے ( اس کی موت سے پہلے ) پوچھا: کیا تجھے فلاں نے مارا ہے؟ لڑکی نے سر کے اشارہ سے کہا: نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے کے متعلق پوچھا: ( کیا فلاں نے مارا ہے؟ ) دوبارہ بھی اس نے سر کے اشارے سے کہا: نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسرے کے متعلق پوچھا: تو اس نے سر کے اشارے سے کہا: ہاں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یہودی کو دو پتھروں کے درمیان رکھ کر قتل کر دیا ۱؎۔

انگریزی ترجمہ

It was narrated from Anas bin Malik that :a Jew killed a girl for her jewelry. He asked her (as she was dying): “Did so-and-so kill you?” and she gestured with her head to say no. Then he asked her again, and she gestured with her head to say no. he asked her a third time and she gestured with her head to say yes. So the Messenger of Allah (ﷺ) killed him (by crushing his head) between two rocks

سند دیکھیں (1 راوی)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّ يَهُودِيًّا، قَتَلَ جَارِيَةً عَلَى أَوْضَاحٍ لَهَا فَقَالَ لَهَا ‏

رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

  1. 1
    صحابی (راویِ اول)