مرکزی مواد پر جائیں
سنن ابن ماجہ کی طرف واپس

سنن ابن ماجہ #2511

مسلسل نمبر: 2511 · کتاب 18، حدیث 10

100%
زیرِ جائزہ
صحیحSahih (Al-Albani)

‏ كَانَ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ رَجُلٌ اشْتَرَى عَقَارًا فَوَجَدَ فِيهَا جَرَّةً مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ اشْتَرَيْتُ مِنْكَ الأَرْضَ وَلَمْ أَشْتَرِ مِنْكَ الذَّهَبَ ‏.‏ فَقَالَ الرَّجُلُ إِنَّمَا بِعْتُكَ الأَرْضَ بِمَا فِيهَا ‏.‏ فَتَحَاكَمَا إِلَى رَجُلٍ فَقَالَ أَلَكُمَا وَلَدٌ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِي غُلاَمٌ ‏.‏ وَقَالَ الآخَرُ لِي جَارِيَةٌ ‏.‏ قَالَ فَأَنْكِحَا الْغُلاَمَ الْجَارِيَةَ وَلْيُنْفِقَا عَلَى أَنْفُسِهِمَا مِنْهُ وَلْيَتَصَدَّقَا ‏"‏ ‏.‏

اردو ترجمہ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک شخص نے ایک زمین خریدی، اس میں اسے سونے کا ایک مٹکا ملا، خریدار بائع ( بیچنے والے ) سے کہنے لگا: میں نے تو تم سے زمین خریدی ہے سونا نہیں خریدا، اور بائع کہہ رہا تھا: میں نے زمین اور جو کچھ اس میں ہے سب تمہارے ہاتھ بیچا ہے، الغرض دونوں ایک شخص کے پاس معاملہ لے گئے، اس نے پوچھا: تم دونوں کا کوئی بچہ ہے؟ ان میں سے ایک نے کہا: ہاں میرے پاس ایک لڑکا ہے اور دوسرے نے کہا: میرے پاس ایک لڑکی ہے، تو اس شخص نے کہا: تم دونوں اس لڑکے کی شادی اس لڑکی سے کر دو، اور چاہیئے کہ اس سونے کو وہی دونوں اپنے اوپر خرچ کریں، اور اس میں سے صدقہ بھی دیں۔

انگریزی ترجمہ

Sulaiman bin Hayyan said:“I heard my father narrate from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said: 'Among those who came before you there was a man who bought some property and found therein a jar of gold. He said: “I bought land from you, but I did not buy the gold from you.” The man said: “Rather I sold you the land with whatever is in it.” They referred their case to (a third) man who said: “Do you have children?” One of them said: “I have a boy.” The other said: “I have a girl.” He said: “Marry the boy to the girl, and let them spend on themselves from it and give in charity.”

سند دیکھیں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ، سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏

اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔