مرکزی مواد پر جائیں
صحیح بخاری کی طرف واپس

صحیح بخاری #5676

مسلسل نمبر: 5676 · کتاب 75، حدیث 36

100%
زیرِ جائزہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ سَمِعْتُ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ دَخَلَ عَلَىَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا مَرِيضٌ فَتَوَضَّأَ فَصَبَّ عَلَىَّ أَوْ قَالَ صُبُّوا عَلَيْهِ فَعَقَلْتُ فَقُلْتُ لاَ يَرِثُنِي إِلاَّ كَلاَلَةٌ، فَكَيْفَ الْمِيرَاثُ فَنَزَلَتْ آيَةُ الْفَرَائِضِ‏.‏

اردو ترجمہ

اس پر یہ پانی ڈال دو اس سے مجھے ہوش آ گیا۔ میں نے عرض کیا کہ میں تو کلالہ ہوں ( جس کے والد اور اولاد نہ ہو ) میرے ترکہ میں تقسیم کیسے ہو گی اس پر میراث کی آیت نازل ہوئی۔

انگریزی ترجمہ

Pour it on him) " When I came to my senses I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I have no son or father to be my heir, so how will be my inheritance?" Then the Verse of inheritance was revealed

سند دیکھیں (1 راوی)

ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر (محمد بن جعفر) نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن منکدر نے، کہا کہ میں نے رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے میں بیمار تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور وضو کا پانی مجھ پر ڈالا یا فرمایا کہ

  1. 1
    صحابی (راویِ اول)