صحیح بخاری #4716
مسلسل نمبر: 4716 · کتاب 65، حدیث 238
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنه ـ {وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلاَّ فِتْنَةً لِلنَّاسِ} قَالَ هِيَ رُؤْيَا عَيْنٍ أُرِيَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ {وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ} شَجَرَةُ الزَّقُّومِ.
اردو ترجمہ
آیت «وما جعلنا الرؤيا التي أريناك إلا فتنة للناس» میں «رؤيا» سے آنکھ کا دیکھنا مراد ہے ( بیداری میں نہ کہ خواب میں ) یعنی وہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شب معراج میں دکھایا گیا اور «شجرة الملعونة» سے تھوہڑ کا درخت مراد ہے۔
انگریزی ترجمہ
Narrated Ibn `Abbas:Regarding: 'And We granted the vision (Ascension to the Heaven "Miraj") which We showed you (O Muhammad as an actual eye witness) but as a trial for mankind.' (17.60) It was an actual eyewitness which was shown to Allah's Messenger (ﷺ) during the night he was taken on a journey (through the heavens). And the cursed tree is the tree of Az-Zaqqum (a bitter pungent tree which grows at the bottom of Hell)
سند دیکھیں (1 راوی)
ہم سے علی بن مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
- 1صحابی (راویِ اول)