مرکزی مواد پر جائیں
صحیح بخاری کی طرف واپس

صحیح بخاری #4614

مسلسل نمبر: 4614 · کتاب 65، حدیث 136

100%
زیرِ جائزہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ أَبَاهَا، كَانَ لاَ يَحْنَثُ فِي يَمِينٍ حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ كَفَّارَةَ الْيَمِينِ‏.‏ قَالَ أَبُو بَكْرٍ لاَ أَرَى يَمِينًا أُرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، إِلاَّ قَبِلْتُ رُخْصَةَ اللَّهِ، وَفَعَلْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ‏.‏

اردو ترجمہ

ہم سے احمد بن ابی رجاء نے بیان کیا، کہا ہم سے نضر بن شمیل نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، کہا مجھ کو میرے والد نے خبر دی اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ان کے والد ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنی قسم کے خلاف کبھی نہیں کیا کرتے تھے۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ نے قسم کے کفارہ کا حکم نازل کر دیا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اب اگر اس کے ( یعنی جس کے لیے قسم کھا رکھی تھی ) سوا دوسری چیز مجھے اس سے بہتر معلوم ہوتی ہے تو میں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی رخصت پر عمل کرتا ہوں اور وہی کام کرتا ہوں جو بہتر ہوتا ہے۔

انگریزی ترجمہ

If I ever take an oath (to do something) and later find that to do something else is better, then I accept Allah's permission and do that which is better, (and do the legal expiation for my oath)

سند دیکھیں (1 راوی)
  1. 1
    صحابی (راویِ اول)