مرکزی مواد پر جائیں
صحیح بخاری کی طرف واپس

صحیح بخاری #4588

مسلسل نمبر: 4588 · کتاب 65، حدیث 110

100%
زیرِ جائزہ

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، تَلاَ ‏{‏ِلاَّ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ‏}‏ قَالَ كُنْتُ أَنَا وَأُمِّي مِمَّنْ عَذَرَ اللَّهُ‏.‏ وَيُذْكَرُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‏{‏حَصِرَتْ‏}‏ ضَاقَتْ ‏{‏تَلْوُوا‏}‏ أَلْسِنَتَكُمْ بِالشَّهَادَةِ‏.‏ وَقَالَ غَيْرُهُ الْمُرَاغَمُ الْمُهَاجَرُ‏.‏ رَاغَمْتُ هَاجَرْتُ قَوْمِي‏.‏ ‏{‏مَوْقُوتًا‏}‏ مُوَقَّتًا وَقْتَهُ عَلَيْهِمْ‏.‏

اردو ترجمہ

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے ابن ابی ملیکہ نے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت «لا المستضعفين من الرجال والنساء والولدان‏» کی تلاوت کی اور فرمایا کہ میں اور میری والدہ بھی ان لوگوں میں سے تھیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے معذور رکھا تھا۔ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ «حصرت‏» معنی میں «ضاقت» کے ہے۔ «تلووا‏» یعنی تمہاری زبانوں سے گواہی ادا ہو گی۔ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کے سوا دوسرے شخص ( ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ) نے کہا «مراغم» کا معنی ہجرت کا مقام۔ عرب لوگ کہتے ہیں «راغمت قومي‏.‏» یعنی میں نے اپنی قوم والوں کو جمع کر دیا۔ «موقوتا‏» کے معنی ایک وقت مقررہ پر یعنی جو وقت ان کے لیے مقرر ہو۔

انگریزی ترجمہ

Except the weak ones among men women and children," (4.98) and said, "My mother and I were among those whom Allah had excused

سند دیکھیں

اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔