مرکزی مواد پر جائیں
صحیح بخاری کی طرف واپس

صحیح بخاری #4468

مسلسل نمبر: 4468 · کتاب 64، حدیث 483

100%
زیرِ جائزہ

‏ قَدْ بَلَغَنِي أَنَّكُمْ قُلْتُمْ فِي أُسَامَةَ، وَإِنَّهُ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَىَّ ‏"‏‏.‏

اردو ترجمہ

ہم سے ابوعاصم ضحاک بن مخلد نے بیان کیا، کہا ہم سے فضیل بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے سالم نے اور ان سے ان کے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو ایک لشکر کا امیر بنایا تو بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے ان کی امارت پر اعتراض کیا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم اسامہ رضی اللہ عنہ پر اعتراض کر رہے ہو حالانکہ وہ مجھے سب سے زیادہ عزیز ہے۔

انگریزی ترجمہ

I have been informed that you spoke about Usama. (Let it be known that ) he is the most beloved of all people to me

سند دیکھیں (1 راوی)

حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنِ الْفُضَيْلِ بْنِ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، اسْتَعْمَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أُسَامَةَ ـ فَقَالُوا فِيهِ ـ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏

  1. 1
    صحابی (راویِ اول)