مرکزی مواد پر جائیں
صحیح بخاری کی طرف واپس

صحیح بخاری #4380

مسلسل نمبر: 4380 · کتاب 64، حدیث 403

100%
زیرِ جائزہ

‏ لأَبْعَثَنَّ مَعَكُمْ رَجُلاً أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ ‏"‏‏.‏ فَاسْتَشْرَفَ لَهُ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ قُمْ يَا أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ ‏"‏‏.‏ فَلَمَّا قَامَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هَذَا أَمِينُ هَذِهِ الأُمَّةِ ‏"‏‏.‏

اردو ترجمہ

مجھ سے عباس بن حسین نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا، ان سے اسرائیل نے، ان سے ابواسحاق نے، ان سے صلہ بن زفر نے اور ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نجران کے دو سردار عاقب اور سید، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مباہلہ کرنے کے لیے آئے تھے لیکن ایک نے اپنے دوسرے ساتھی سے کہا کہ ایسا نہ کرو کیونکہ اللہ کی قسم! اگر یہ نبی ہوئے اور پھر بھی ہم نے ان سے مباہلہ کیا تو ہم پنپ نہیں سکتے اور نہ ہمارے بعد ہماری نسلیں رہ سکیں گی۔ پھر ان دونوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ جو کچھ آپ مانگیں ہم جزیہ دینے کے لیے تیار ہیں۔ آپ ہمارے ساتھ کوئی امین بھیج دیجئیے، جو بھی آدمی ہمارے ساتھ بھیجیں وہ امین ہونا ضروری ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہارے ساتھ ایک ایسا آدمی بھیجوں گا جو امانت دار ہو گا بلکہ پورا پورا امانت دار ہو گا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منتظر تھے، آپ نے فرمایا کہ ابوعبیدہ بن الجراح! اٹھو۔ جب وہ کھڑے ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ اس امت کے امین ہیں۔

انگریزی ترجمہ

Do not do (this Lian) for, by Allah, if he is a Prophet and we do this Lian, neither we, nor our offspring after us will be successful." Then both of them said (to the Prophet (ﷺ) ), "We will give what you should ask but you should send a trustworthy man with us, and do not send any person with us but an honest one." The Prophet (ﷺ) said, "I will send an honest man who Is really trustworthy." Then every one of the companions of Allah's Messenger (ﷺ) wished to be that one. Then the Prophet said, "Get up, O Abu 'Ubaida bin Al-Jarrah." When he got up, Allah's Messenger (ﷺ) said, "This is the Trustworthy man of this (Muslim) nation

سند دیکھیں (1 راوی)

حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ الْحُسَيْنِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ جَاءَ الْعَاقِبُ وَالسَّيِّدُ صَاحِبَا نَجْرَانَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُرِيدَانِ أَنْ يُلاَعِنَاهُ، قَالَ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ لاَ تَفْعَلْ، فَوَاللَّهِ لَئِنْ كَانَ نَبِيًّا فَلاَعَنَّا، لاَ نُفْلِحُ نَحْنُ وَلاَ عَقِبُنَا مِنْ بَعْدِنَا‏.‏ قَالاَ إِنَّا نُعْطِيكَ مَا سَأَلْتَنَا، وَابْعَثْ مَعَنَا رَجُلاً أَمِينًا، وَلاَ تَبْعَثْ مَعَنَا إِلاَّ أَمِينًا‏.‏ فَقَالَ ‏

  1. 1
    صحابی (راویِ اول)