صحیح بخاری #4332
مسلسل نمبر: 4332 · کتاب 64، حدیث 361
أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا، وَتَذْهَبُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ". قَالُوا بَلَى. قَالَ " لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الأَنْصَارِ أَوْ شِعْبَهُمْ ".
اردو ترجمہ
فتح مکہ کے زمانے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش میں ( حنین کی ) غنیمت کی تقسیم کر دی۔ انصار رضی اللہ عنہم اس سے رنجیدہ ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ دوسرے لوگ دنیا اپنے ساتھ لے جائیں اور تم اپنے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے جاؤ۔ انصار نے عرض کیا کہ ہم اس پر خوش ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگ دوسرے کسی وادی یا گھاٹی میں رہیں تو میں انصار کی وادی یا گھاٹی میں رہوں گا۔
انگریزی ترجمہ
Won't you be pleased that the people take the worldly things and you take Allah's Messenger (ﷺ) with you? "They said, "Yes." The Prophet (ﷺ) said, "If the people took their way through a valley or mountain pass, I would take my way through the Ansar's valley or mountain pass
سند دیکھیں (1 راوی)
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَنَائِمَ بَيْنَ قُرَيْشٍ. فَغَضِبَتِ الأَنْصَارُ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوالتیاح نے اور ان سے رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
- 1صحابی (راویِ اول)