مرکزی مواد پر جائیں
صحیح بخاری کی طرف واپس

صحیح بخاری #4312

مسلسل نمبر: 4312 · کتاب 64، حدیث 343

100%
زیرِ جائزہ

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، قَالَ زُرْتُ عَائِشَةَ مَعَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ فَسَأَلَهَا عَنِ الْهِجْرَةِ، فَقَالَتْ لاَ هِجْرَةَ الْيَوْمَ، كَانَ الْمُؤْمِنُ يَفِرُّ أَحَدُهُمْ بِدِينِهِ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم مَخَافَةَ أَنْ يُفْتَنَ عَلَيْهِ، فَأَمَّا الْيَوْمَ فَقَدْ أَظْهَرَ اللَّهُ الإِسْلاَمَ، فَالْمُؤْمِنُ يَعْبُدُ رَبَّهُ حَيْثُ شَاءَ، وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ‏.‏

اردو ترجمہ

ہم سے اسحاق بن یزید نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن حمزہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام اوزاعی نے بیان کیا، ان سے عطا بن ابی رباح نے بیان کیا کہ میں عبید بن عمیر کے ساتھ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا۔ عبید نے ان سے ہجرت کا مسئلہ پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اب ہجرت باقی نہیں رہی۔ پہلے مسلمان اپنا دین بچانے کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی طرف پناہ لینے کے لیے آتے تھے، اس خوف سے کہ کہیں دین کی وجہ سے فتنہ میں نہ پڑ جائیں۔ اس لیے اب جب کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کو غالب کر دیا تو مسلمان جہاں بھی چاہے اپنے رب کی عبادت کر سکتا ہے۔ اب تو صرف جہاد اور جہاد کی نیت کا ثواب باقی ہے۔

انگریزی ترجمہ

There is no migration today. A believer used to flee with his religion to Allah and His Prophet for fear that he might be put to trial as regards his religion. Today Allah has rendered Islam victorious; therefore a believing one can worship one's Lord wherever one wishes. But there is Jihad (for Allah's Cause) and intentions." (See Hadith 42, in the 4th Vol. for its Explanation)

سند دیکھیں

اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔