مرکزی مواد پر جائیں
صحیح بخاری کی طرف واپس

صحیح بخاری #4267

مسلسل نمبر: 4267 · کتاب 64، حدیث 301

100%
زیرِ جائزہ

حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنِ بَشِيرٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ أُغْمِيَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ، فَجَعَلَتْ أُخْتُهُ عَمْرَةُ تَبْكِي وَاجَبَلاَهْ وَاكَذَا وَاكَذَا‏.‏ تُعَدِّدُ عَلَيْهِ فَقَالَ حِينَ أَفَاقَ مَا قُلْتِ شَيْئًا إِلاَّ قِيلَ لِي آنْتَ كَذَلِكَ‏.‏

اردو ترجمہ

عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ پر ( ایک مرتبہ کسی مرض میں ) بے ہوشی طاری ہوئی تو ان کی بہن عمرہ والدہ نعمان بن بشیر یہ سمجھ کر کہ کوئی حادثہ آ گیا ‘ عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے لیے پکار کر رونے لگیں۔ ہائے میرے بھائی ہائے ‘ میرے ایسے اور ویسے۔ ان کے محاسن اس طرح ایک ایک کر کے گنانے لگیں لیکن جب عبداللہ رضی اللہ عنہ کو ہوش آیا تو انہوں نے کہا کہ تم جب میری کسی خوبی کا بیان کرتی تھیں تو مجھ سے پوچھا جاتا تھا کہ کیا تم واقعی ایسے ہی تھے۔

انگریزی ترجمہ

O Jabala! Oh so-and-so! Oh so-and-so! and went on calling him by his (good ) qualities one by one). When he came to his senses, he said (to his sister), "When-ever you said something, I was asked, 'Are you really so (i.e. as she says)?

سند دیکھیں (1 راوی)

مجھ سے عمران بن میسرہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا ‘ ان سے حصین بن عبدالرحمٰن نے ‘ ان سے عامر شعبی نے اور ان سے بشیر نے کہ

  1. 1
    صحابی (راویِ اول)