صحیح بخاری #417
مسلسل نمبر: 417 · کتاب 8، حدیث 67
إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ فِي صَلاَتِهِ فَإِنَّمَا يُنَاجِي رَبَّهُ ـ أَوْ رَبُّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قِبْلَتِهِ ـ فَلاَ يَبْزُقَنَّ فِي قِبْلَتِهِ، وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ ". ثُمَّ أَخَذَ طَرَفَ رِدَائِهِ فَبَزَقَ فِيهِ، وَرَدَّ بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ، قَالَ " أَوْ يَفْعَلُ هَكَذَا ".
اردو ترجمہ
) اس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شدید ناگواری کو محسوس کیا گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے، یا یہ کہ اس کا رب اس کے اور قبلہ کے درمیان ہوتا ہے۔ اس لیے قبلہ کی طرف نہ تھوکا کرو، البتہ بائیں طرف یا قدم کے نیچے تھوک لیا کرو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر کا ایک کونا ( کنارہ ) لیا، اس میں تھوکا اور چادر کی ایک تہہ کو دوسری تہہ پر پھیر لیا اور فرمایا، یا اس طرح کر لیا کرے۔
انگریزی ترجمہ
If anyone of you stands for the prayer, he is speaking in private to his Lord, (or) his Lord is between him and his Qibla, therefore he should not spit towards his Qibla, but he could spit either on his left or under his foot." Then he took the corner of his sheet and spat in it, folded it and said, "Or do this
سند دیکھیں (1 راوی)
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَأَى نُخَامَةً فِي الْقِبْلَةِ فَحَكَّهَا بِيَدِهِ، وَرُئِيَ مِنْهُ كَرَاهِيَةٌ ـ أَوْ رُئِيَ كَرَاهِيَتُهُ لِذَلِكَ وَشِدَّتُهُ عَلَيْهِ ـ وَقَالَ
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زہیر بن معاویہ نے، کہا ہم سے حمید نے سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف ( دیوار پر ) بلغم دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اسے کھرچ ڈالا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناخوشی کو محسوس کیا گیا یا ( راوی نے اس طرح بیان کیا کہ
- 1صحابی (راویِ اول)