مرکزی مواد پر جائیں
صحیح بخاری کی طرف واپس

صحیح بخاری #3828

مسلسل نمبر: 3828 · کتاب 63، حدیث 53

100%
زیرِ جائزہ

وَقَالَ اللَّيْثُ كَتَبَ إِلَىَّ هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَتْ رَأَيْتُ زَيْدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ قَائِمًا مُسْنِدًا ظَهْرَهُ إِلَى الْكَعْبَةِ يَقُولُ يَا مَعَاشِرَ قُرَيْشٍ، وَاللَّهِ مَا مِنْكُمْ عَلَى دِينِ إِبْرَاهِيمَ غَيْرِي، وَكَانَ يُحْيِي الْمَوْءُودَةَ، يَقُولُ لِلرَّجُلِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَقْتُلَ ابْنَتَهُ لاَ تَقْتُلْهَا، أَنَا أَكْفِيكَهَا مَئُونَتَهَا‏.‏ فَيَأْخُذُهَا فَإِذَا تَرَعْرَعَتْ قَالَ لأَبِيهَا إِنْ شِئْتَ دَفَعْتُهَا إِلَيْكَ، وَإِنْ شِئْتَ كَفَيْتُكَ مَئُونَتَهَا‏.‏

اردو ترجمہ

میں نے زید بن عمرو بن نفیل کو کعبہ سے اپنی پیٹھ لگائے ہوئے کھڑے ہو کر یہ کہتے سنا، اے قریش کے لوگو! اللہ کی قسم میرے سوا اور کوئی تمہارے یہاں دین ابراہیم پر نہیں ہے اور زید بیٹیوں کو زندہ نہیں گاڑتے تھے اور ایسے شخص سے جو اپنی بیٹی کو مار ڈالنا چاہتا کہتے اس کی جان نہ لے اس کے تمام اخراجات کا ذمہ میں لیتا ہوں، چنانچہ لڑکی کو اپنی پرورش میں رکھ لیتے جب وہ بڑی ہو جاتی تو اس کے باپ سے کہتے اب اگر تم چاہو تو میں تمہاری لڑکی کو تمہارے حوالے کر سکتا ہوں اور اگر تمہاری مرضی ہو تو میں اس کے سب کام پورے کر دوں گا۔

انگریزی ترجمہ

O people of Quraish! By Allah, none amongst you is on the religion of Abraham except me." He used to preserve the lives of little girls: If somebody wanted to kill his daughter he would say to him, "Do not kill her for I will feed her on your behalf." So he would take her, and when she grew up nicely, he would say to her father, "Now if you want her, I will give her to you, and if you wish, I will feed her on your behalf

سند دیکھیں (1 راوی)

اور لیث بن سعد نے کہا کہ مجھے ہشام نے لکھا، اپنے والد (عروہ بن زبیر) سے اور انہوں نے کہا کہ ہم سے ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ

  1. 1
    صحابی (راویِ اول)