صحیح بخاری #3614
مسلسل نمبر: 3614 · کتاب 61، حدیث 121
اقْرَأْ فُلاَنُ، فَإِنَّهَا السَّكِينَةُ نَزَلَتْ لِلْقُرْآنِ، أَوْ تَنَزَّلَتْ لِلْقُرْآنِ ".
اردو ترجمہ
ایک صحابی ( اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ ) نے ( نماز میں ) سورۃ الکہف کی تلاوت کی۔ اسی گھر میں گھوڑا بندھا ہوا تھا، گھوڑے نے اچھلنا کودنا شروع کر دیا۔ ( اسید نے ادھر خیال نہ کیا اس کو اللہ کے سپرد کیا ) اس کے بعد جب انہوں نے سلام پھیرا تو دیکھا کہ بادل کے ایک ٹکڑے نے ان کے سارے گھر پر سایہ کر رکھا ہے۔ اس واقعہ کا ذکر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن پڑھتا ہی رہ کیونکہ یہ «سكينة» ہے جو قرآن کی وجہ سے نازل ہوئی یا ( اس کے بجائے راوی نے ) «تنزلت للقرآن» کے الفاظ کہے۔
انگریزی ترجمہ
O so-and-so! Recite, for this (mist or cloud) was a sign of peace descending for the recitation of Qur'an
سند دیکھیں (1 راوی)
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، سَمِعْتُ ـ رضى الله عنهما ـ قَرَأَ رَجُلٌ الْكَهْفَ وَفِي الدَّارِ الدَّابَّةُ فَجَعَلَتْ تَنْفِرُ فَسَلَّمَ، فَإِذَا ضَبَابَةٌ ـ أَوْ سَحَابَةٌ ـ غَشِيَتْهُ، فَذَكَرَهُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے ان سے ابواسحٰق نے اور انہوں نے رضی اللہ عنہ سے سنا۔ انہوں نے بیان کیا کہ
- 1صحابی (راویِ اول)