مرکزی مواد پر جائیں
صحیح بخاری کی طرف واپس

صحیح بخاری #3114

مسلسل نمبر: 3114 · کتاب 57، حدیث 23

100%
زیرِ جائزہ

‏ سَمُّوا بِاسْمِي، وَلاَ تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي، فَإِنِّي إِنَّمَا جُعِلْتُ قَاسِمًا أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ حُصَيْنٌ ‏"‏ بُعِثْتُ قَاسِمًا أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ ‏"‏‏.‏ قَالَ عَمْرٌو أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ سَالِمًا عَنْ جَابِرٍ أَرَادَ أَنْ يُسَمِّيَهُ الْقَاسِمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ سَمُّوا بِاسْمِي وَلاَ تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي ‏"‏‏.‏

اردو ترجمہ

ان انصاری نے بیان کیا ( جن کے یہاں بچہ پیدا ہوا تھا ) کہ میں بچے کو اپنی گردن پر اٹھا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور سلیمان کی روایت میں ہے کہ ان کے یہاں بچہ پیدا ہوا ‘ تو انہوں نے اس کا نام محمد رکھنا چاہا ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ میرے نام پر نام رکھو ‘ لیکن میری کنیت ( ابوالقاسم ) پر کنیت نہ رکھنا ‘ کیونکہ مجھے تقسیم کرنے والا ( قاسم ) بنایا گیا ہے۔ میں تم میں تقسیم کرتا ہوں ‘ اور حصین نے ( اپنی روایت میں ) یوں بیان کیا ‘ کہ مجھے تقسیم کرنے والا ( قاسم ) بنا کر بھیجا گیا ہے ‘ میں تم میں تقسیم کرتا ہوں۔ عمرو بن مرزوق نے کہا کہ ہمیں شعبہ نے خبر دی ‘ ان سے قتادہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے سالم سے سنا انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے کہ ان انصاری صحابی نے اپنے بچے کا نام قاسم رکھنا چاہا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے نام پر نام رکھو لیکن کنیت نہ رکھو۔

انگریزی ترجمہ

I took the boy to the Prophet (ﷺ). The Prophet (ﷺ) said, "Name your child by my name, but do not name (them) by my Kunya, for I have been made Qasim (i.e., a distributor) to distribute (the booty etc.) amongst you." The narrator, Husain said that the Prophet (ﷺ) said, "I have been sent as a Qasim (i.e., distributor) to distribute (things) amongst you." [The Sub narrator Salim said that he heard Jabir saying that the man wanted to name the boy Al-Qasim, but the Prophet (ﷺ) said, "Call (your sons) by my name, but do not name (them) by my Kunya

سند دیکھیں (1 راوی)

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، وَمَنْصُورٍ، وَقَتَادَةَ، سَمِعُوا سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا مِنَ الأَنْصَارِ غُلاَمٌ، فَأَرَادَ أَنْ يُسَمِّيَهُ مُحَمَّدًا ـ قَالَ شُعْبَةُ فِي حَدِيثِ مَنْصُورٍ إِنَّ الأَنْصَارِيَّ قَالَ حَمَلْتُهُ عَلَى عُنُقِي فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ وَفِي حَدِيثِ سُلَيْمَانَ وُلِدَ لَهُ غُلاَمٌ، فَأَرَادَ أَنْ يُسَمِّيَهُ مُحَمَّدًا ـ قَالَ ‏

ہم سے ابوولید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے سلیمان ‘ منصور اور قتادہ نے ‘ انہوں نے سالم بن ابی الجعد سے سنا اور ان سے رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہم انصاریوں کے قبیلہ میں ایک انصاری کے گھر بچہ پیدا ہو تو انہوں نے بچے کا نام محمد رکھنے کا ارادہ کیا اور شعبہ نے منصور سے روایت کر کے بیان کیا ہے کہ

  1. 1
    صحابی (راویِ اول)