صحیح بخاری #3008
مسلسل نمبر: 3008 · کتاب 56، حدیث 217
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمَ بَدْرٍ أُتِيَ بِأُسَارَى، وَأُتِيَ بِالْعَبَّاسِ وَلَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ ثَوْبٌ، فَنَظَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لَهُ قَمِيصًا فَوَجَدُوا قَمِيصَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَىٍّ يَقْدُرُ عَلَيْهِ، فَكَسَاهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِيَّاهُ، فَلِذَلِكَ نَزَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَمِيصَهُ الَّذِي أَلْبَسَهُ. قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ كَانَتْ لَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَدٌ فَأَحَبَّ أَنْ يُكَافِئَهُ.
اردو ترجمہ
بدر کی لڑائی سے قیدی ( مشرکین مکہ ) لائے گئے۔ جن میں عباس ( رضی اللہ عنہ ) بھی تھے۔ ان کے بدن پر کوئی کپڑا نہیں تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے قمیص تلاش کروائی۔ ( وہ لمبے قد کے تھے ) اس لیے عبداللہ بن ابی ( منافق ) کی قمیص ہی ان کے بدن پر آ سکی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وہ قمیص پہنا دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( عبداللہ بن ابی کی موت کے بعد ) اپنی قمیص اتار کر اسے پہنائی تھی۔ ابن عیینہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جو اس کا احسان تھا ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ اسے ادا کر دیں۔
انگریزی ترجمہ
Narrated Jabir bin `Abdullah:When it was the day (of the battle) of Badr, prisoners of war were brought including Al-Abbas who was undressed. The Prophet (ﷺ) looked for a shirt for him. It was found that the shirt of `Abdullah bin Ubai would do, so the Prophet (ﷺ) let him wear it. That was the reason why the Prophet (ﷺ) took off and gave his own shirt to `Abdullah. (The narrator adds, "He had done the Prophet (ﷺ) some favor for which the Prophet liked to reward him
سند دیکھیں (1 راوی)
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابن عیینہ نے بیان کیا ‘ ان سے عمرو بن دینار نے ‘ انہوں نے رضی اللہ عنہما سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ
- 1صحابی (راویِ اول)