صحیح بخاری #2867
مسلسل نمبر: 2867 · کتاب 56، حدیث 83
وَجَدْنَا فَرَسَكُمْ هَذَا بَحْرًا ". فَكَانَ بَعْدَ ذَلِكَ لاَ يُجَارَى.
اردو ترجمہ
) اس کی رفتار میں سستی تھی، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس ہوئے تو فرمایا کہ ہم نے تو تمہارے اس گھوڑے کو دریا پایا ( یہ بڑا ہی تیز رفتار ہے ) چنانچہ اس کے بعد کوئی گھوڑا اس سے آگے نہیں نکل سکتا تھا۔
انگریزی ترجمہ
I found your (i.e. Abu Talha's) horse very fast. After that the horse could not be surpassed in running
سند دیکھیں (1 راوی)
حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ ـ رضى الله عنه أَنَّ أَهْلَ، الْمَدِينَةِ فَزِعُوا مَرَّةً، فَرَكِبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَرَسًا لأَبِي طَلْحَةَ كَانَ يَقْطِفُ ـ أَوْ كَانَ فِيهِ قِطَافٌ ـ فَلَمَّا رَجَعَ قَالَ
ہم سے عبدالاعلیٰ بن حماد نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے رضی اللہ عنہ نے کہ ایک مرتبہ ( رات میں ) اہل مدینہ کو دشمن کا خطرہ ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ایک گھوڑے ( مندوب ) پر سوار ہوئے، گھوڑا سست رفتار تھا یا ( راوی نے یوں کہا کہ
- 1صحابی (راویِ اول)