صحیح بخاری #2107
مسلسل نمبر: 2107 · کتاب 34، حدیث 60
إِنَّ الْمُتَبَايِعَيْنِ بِالْخِيَارِ فِي بَيْعِهِمَا، مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، أَوْ يَكُونُ الْبَيْعُ خِيَارًا ". قَالَ نَافِعٌ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا اشْتَرَى شَيْئًا يُعْجِبُهُ فَارَقَ صَاحِبَهُ.
اردو ترجمہ
کوئی ایسی چیز خریدتے جو انہیں پسند ہوتی تو ( خریدنے کے بعد ) اپنے معاملہ دار سے جدا ہو جاتے۔
انگریزی ترجمہ
The buyer and the seller have the option to cancel or confirm the bargain before they separate from each other or if the sale is optional." Nafi` said, "Ibn `Umar used to separate quickly from the seller if he had bought a thing which he liked
سند دیکھیں (1 راوی)
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى، قَالَ سَمِعْتُ نَافِعًا، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رضى الله عنهما عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو عبدالوہاب نے خبر دی، کہا کہ میں نے یحییٰ بن سعید سے سنا، کہا کہ میں نے نافع سے سنا اور انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، خرید و فروخت کرنے والوں کو جب تک وہ جدا نہ ہوں اختیار ہوتا ہے، یا خود بیع میں اختیار کی شرط ہو۔ ( تو شرط کے مطابق اختیار ہوتا ہے ) نافع نے کہا کہ جب عمر رضی اللہ عنہما
- 1صحابی (راویِ اول)