مرکزی مواد پر جائیں
سنن ابو داؤد کی طرف واپس

سنن ابو داؤد #647

مسلسل نمبر: 647 · کتاب 2، حدیث 257

100%
زیرِ جائزہ
صحیحSahih (Al-Albani)

‏ إِنَّمَا مَثَلُ هَذَا مَثَلُ الَّذِي يُصَلِّي وَهُوَ مَكْتُوفٌ ‏"‏ ‏.‏

اردو ترجمہ

عبداللہ بن عباس نے عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ نماز پڑھ رہے ہیں اور ان کے پیچھے بالوں کا جوڑا بندھا ہوا ہے، تو وہ ان کے پیچھے کھڑے ہو کر اسے کھولنے لگے اور عبداللہ بن حارث چپ چاپ کھڑے رہے، جب نماز سے فارغ ہوئے تو ابن عباس کی طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے: آپ نے میرا سر کیوں کھول دیا؟ تو انہوں نے کہا: اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ: اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی نماز پڑھ رہا ہو اور اس کے ہاتھ پیچھے رسی سے بندھے ہوں ۔

انگریزی ترجمہ

Narrated Abdullah ibn Abbas: Kurayb the freed slave of Ibn Abbas reported: Abdullah ibn Abbas saw Abdullah ibn al-Harith praying having the back knot of the hair. He stood behind him and began to untie it. He remained standing unmoved (stationary). When he finished his prayer he came to Ibn Abbas and said to him: What were you doing with my head? He said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: A man who prays with the black knot of hair tied is the one praying pinioned

سند دیکھیں (1 راوی)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ بُكَيْرًا، حَدَّثَهُ أَنَّ كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ أَنَّ عَبَّاسٍ رَأَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ يُصَلِّي وَرَأْسُهُ مَعْقُوصٌ مِنْ وَرَائِهِ فَقَامَ وَرَاءَهُ فَجَعَلَ يَحُلُّهُ وَأَقَرَّ لَهُ الآخَرُ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ مَا لَكَ وَرَأْسِي قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏

عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام کریب کا بیان ہے کہ

  1. 1
    صحابی (راویِ اول)