سنن ابو داؤد #4962
مسلسل نمبر: 4962 · کتاب 43، حدیث 190
يَا فُلاَنُ " . فَيَقُولُونَ مَهْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ يَغْضَبُ مِنْ هَذَا الاِسْمِ فَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ { وَلاَ تَنَابَزُوا بِالأَلْقَابِ } .
اردو ترجمہ
ابوجبیرہ بن ضحاک کہتے ہیں کہ ہمارے یعنی بنو سلمہ کے سلسلے میں یہ آیت نازل ہوئی «ولا تنابزوا بالألقاب بئس الاسم الفسوق بعد الإيمان» ایک دوسرے کو برے ناموں سے نہ پکارو، ایمان کے بعد برے نام سے پکارنا برا ہے ( الحجرات: ۱۱ ) ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور ہم میں کوئی شخص ایسا نہیں تھا جس کے دو یا تین نام نہ ہوں، تو آپ نے پکارنا شروع کیا: اے فلاں، تو لوگ کہتے: اللہ کے رسول! اس نام سے نہ پکاریئے، وہ اس نام سے چڑھتا ہے، تو یہ آیت نازل ہوئی «ولا تنابزوا بالألقاب» ۔
انگریزی ترجمہ
Narrated AbuJubayrah ibn ad-Dahhak: This verse was revealed about us, the Banu Salimah: "Nor call each other by (offensive) nicknames: ill-seeming is a name connoting wickedness (to be used of one) after he has believed." He said: When the apostle of Allah (ﷺ) came to us, every one of us had two or three names. The Messenger of Allah (ﷺ) began to say: O so and so! But they would say: Keep silence, Messenger of Allah! He becomes angry by this name. So this verse was revealed: "Nor call each other by (offensive) nicknames
سند دیکھیں
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو جُبَيْرَةَ بْنُ الضَّحَّاكِ، قَالَ فِينَا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ فِي بَنِي سَلِمَةَ { وَلاَ تَنَابَزُوا بِالأَلْقَابِ بِئْسَ الاِسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الإِيمَانِ } قَالَ قَدِمَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَيْسَ مِنَّا رَجُلٌ إِلاَّ وَلَهُ اسْمَانِ أَوْ ثَلاَثَةٌ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ
اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔