مرکزی مواد پر جائیں
سنن ابو داؤد کی طرف واپس

سنن ابو داؤد #429

مسلسل نمبر: 429 · کتاب 2، حدیث 39

100%
زیرِ جائزہ
حسنHasan (Al-Albani)

‏ خَمْسٌ مَنْ جَاءَ بِهِنَّ مَعَ إِيمَانٍ دَخَلَ الْجَنَّةَ مَنْ حَافَظَ عَلَى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ عَلَى وُضُوئِهِنَّ وَرُكُوعِهِنَّ وَسُجُودِهِنَّ وَمَوَاقِيتِهِنَّ وَصَامَ رَمَضَانَ وَحَجَّ الْبَيْتَ إِنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلاً وَأَعْطَى الزَّكَاةَ طَيِّبَةً بِهَا نَفْسُهُ وَأَدَّى الأَمَانَةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ وَمَا أَدَاءُ الأَمَانَةِ قَالَ الْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ ‏.‏

اردو ترجمہ

ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ چیزیں ہیں، جو انہیں ایمان و یقین کے ساتھ ادا کرے گا، وہ جنت میں داخل ہو گا: جس نے وضو کے ساتھ ان پانچوں نماز کی، ان کے رکوع اور سجدوں کی اور ان کے اوقات کی محافظت کی، رمضان کے روزے رکھے، اور بیت اللہ تک پہنچنے کی طاقت رکھنے کی صورت میں حج کیا، خوش دلی و رضا مندی کے ساتھ زکاۃ دی، اور امانت ادا کی ۔ لوگوں نے پوچھا: ابوالدرداء! امانت ادا کرنے کا کیا مطلب ہے؟ تو آپ نے کہا: اس سے مراد جنابت کا غسل کرنا ہے۔

انگریزی ترجمہ

Abu al-Darda' reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:There are five thing, if anyone observe them with faith, he will enter Paradise. He who prays the five times prayer regularly, with the ablution for them, with their bowing, with their prostration and their (right) times ; keeps fast during Ramadan ; performs Hajj (pilgrimage) to the House (Ka'bah), provided he has the ability for its passage; pays Zakat happily ; and fulfills the trust (he will enter Paradise). People said: Abu al-Darda', what is fulfilling the trust ? He replied: Washing because of sexual defilement

سند دیکھیں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، وَأَبَانُ، كِلاَهُمَا عَنْ خُلَيْدٍ الْعَصَرِيِّ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏

اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔