سنن ابو داؤد #3467
مسلسل نمبر: 3467 · کتاب 24، حدیث 52
بِمَ تَسْتَحِلُّ مَالَهُ ارْدُدْ عَلَيْهِ مَالَهُ " . ثُمَّ قَالَ " لاَ تُسْلِفُوا فِي النَّخْلِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاَحُهُ " .
اردو ترجمہ
ایک شخص نے ایک شخص سے کھجور کے ایک خاص درخت کے پھل کی بیع سلف کی، تو اس سال اس درخت میں کچھ بھی پھل نہ آیا تو وہ دونوں اپنا جھگڑا لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیچنے والے سے فرمایا: تم کس چیز کے بدلے اس کا مال اپنے لیے حلال کرنے پر تلے ہوئے ہو؟ اس کا مال اسے لوٹا دو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھجوروں میں جب تک وہ قابل استعمال نہ ہو جائیں سلف نہ کرو ۔
انگریزی ترجمہ
Narrated Abdullah ibn Umar: A man paid in advance for a palm-tree. It did not bear fruit that year. They brought their case for decision to the Prophet (ﷺ). He said: for which do you make his property lawful? He then said: Do not pay in advance for a palm-tree till they (the fruits) were clearly in good condition
سند دیکھیں (1 راوی)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ رَجُلٍ، نَجْرَانِيٍّ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلاً، أَسْلَفَ رَجُلاً فِي نَخْلٍ فَلَمْ تُخْرِجْ تِلْكَ السَّنَةَ شَيْئًا فَاخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ
عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
- 1صحابی (راویِ اول)