مرکزی مواد پر جائیں
سنن ابو داؤد کی طرف واپس

سنن ابو داؤد #2338

مسلسل نمبر: 2338 · کتاب 14، حدیث 26

100%
زیرِ جائزہ
صحیحSahih (Al-Albani)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ أَبُو يَحْيَى الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ الْحَارِثِ الْجَدَلِيُّ، - مِنْ جَدِيلَةِ قَيْسٍ أَنَّ أَمِيرَ مَكَّةَ خَطَبَ ثُمَّ قَالَ عَهِدَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نَنْسُكَ لِلرُّؤْيَةِ فَإِنْ لَمْ نَرَهُ وَشَهِدَ شَاهِدَا عَدْلٍ نَسَكْنَا بِشَهَادَتِهِمَا فَسَأَلْتُ الْحُسَيْنَ بْنَ الْحَارِثِ مَنْ أَمِيرُ مَكَّةَ قَالَ لاَ أَدْرِي ‏.‏ ثُمَّ لَقِيَنِي بَعْدُ فَقَالَ هُوَ الْحَارِثُ بْنُ حَاطِبٍ أَخُو مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ ثُمَّ قَالَ الأَمِيرُ إِنَّ فِيكُمْ مَنْ هُوَ أَعْلَمُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ مِنِّي وَشَهِدَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى رَجُلٍ قَالَ الْحُسَيْنُ فَقُلْتُ لِشَيْخٍ إِلَى جَنْبِي مَنْ هَذَا الَّذِي أَوْمَأَ إِلَيْهِ الأَمِيرُ قَالَ هَذَا عُمَرَ ‏.‏ وَصَدَقَ كَانَ أَعْلَمَ بِاللَّهِ مِنْهُ فَقَالَ بِذَلِكَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏

اردو ترجمہ

ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کا حکم فرمایا ہے۔

انگریزی ترجمہ

This is Abdullah ibn Umar, and he spoke the truth. He was more acquainted with Allah than he. He (Abdullah ibn Umar) said: For this is what the Messenger of Allah (ﷺ) commanded us (to do)

سند دیکھیں (1 راوی)

ابو مالک اشجعی سے روایت ہے کہ ہم سے حسین بن حارث جدلی نے ( جو جدیلہ قیس سے تعلق رکھتے ہیں ) بیان کیا کہ امیر مکہ نے خطبہ دیا پھر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ عہد لیا کہ ہم چاند دیکھ کر حج ادا کریں، اگر ہم خود نہ دیکھ سکیں اور دو معتبر گواہ اس کی رویت کی گواہی دیں تو ان کی گواہی پر حج ادا کریں، میں نے حسین بن حارث سے پوچھا کہ امیر مکہ کون تھے؟ کہا کہ میں نہیں جانتا، اس کے بعد وہ پھر مجھ سے ملے اور کہنے لگے: وہ محمد بن حاطب کے بھائی حارث بن حاطب تھے پھر امیر نے کہا: تمہارے اندر ایک ایسے شخص موجود ہیں جو مجھ سے زیادہ اللہ اور اس کے رسول کی باتوں کو جانتے ہیں اور وہ اس حدیث کے گواہ ہیں، اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے ایک شخص کی طرف اشارہ کیا۔ حسین کا بیان ہے کہ میں نے اپنے پاس بیٹھے ایک بزرگ سے دریافت کیا کہ یہ کون ہیں جن کی طرف امیر نے اشارہ کیا ہے؟ کہنے لگے: یہ عمر رضی اللہ عنہما ہیں اور امیر نے سچ ہی کہا ہے کہ وہ اللہ کو ان سے زیادہ جانتے ہیں، اس پر انہوں نے ( ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ) کہا کہ

  1. 1
    صحابی (راویِ اول)