مرکزی مواد پر جائیں
سنن ابو داؤد کی طرف واپس

سنن ابو داؤد #1066

مسلسل نمبر: 1066 · کتاب 2، حدیث 677

100%
زیرِ جائزہ
صحیحSahih (Al-Albani)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ، صَاحِبُ الزِّيَادِيِّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ابْنُ عَمِّ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ لِمُؤَذِّنِهِ فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ إِذَا قُلْتَ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ‏.‏ فَلاَ تَقُلْ حَىَّ عَلَى الصَّلاَةِ ‏.‏ قُلْ صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ ‏.‏ فَكَأَنَّ النَّاسَ اسْتَنْكَرُوا ذَلِكَ فَقَالَ قَدْ فَعَلَ ذَا مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي إِنَّ الْجُمُعَةَ عَزْمَةٌ وَإِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أُحْرِجَكُمْ فَتَمْشُونَ فِي الطِّينِ وَالْمَطَرِ ‏.‏

اردو ترجمہ

محمد بن سیرین کے چچا زاد بھائی عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بارش کے دن اپنے مؤذن سے کہا: جب تم«أشهد أن محمدا رسول الله» کہنا تو اس کے بعد «حي على الصلاة» نہ کہنا بلکہ اس کی جگہ «صلوا في بيوتكم» لوگو! اپنے اپنے گھروں میں نماز پڑھ لو کہنا، لوگوں نے اسے برا جانا تو انہوں نے کہا: ایسا اس ذات نے کیا ہے جو مجھ سے بہتر تھی ( یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) ، بیشک جمعہ واجب ہے، لیکن مجھے یہ بات گوارہ نہ ہوئی کہ میں تم کو کیچڑ اور پانی میں ( جمعہ کے لیے ) آنے کی زحمت دوں۔

انگریزی ترجمہ

Ibn Sirin said:Ibn ‘Abbas said to his mu’adhdhin on a rainy day: “when you utter the words ‘ I testify that Muhammad is the Messenger of Allah,” do not say,” Come to prayer” but say “Pray at your homes,” By this (announcement) the people were surprised. He said: One who was better than me has done it. The Friday prayer is an obligatory duty. But I disliked to put you to hardship so that you might walk in mud and rain

سند دیکھیں

اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔