سنن ابو داؤد #1027
مسلسل نمبر: 1027 · کتاب 2، حدیث 638
إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلاَتِهِ فَإِنِ اسْتَيْقَنَ أَنْ قَدْ صَلَّى ثَلاَثًا فَلْيَقُمْ فَلْيُتِمَّ رَكْعَةً بِسُجُودِهَا ثُمَّ يَجْلِسْ فَيَتَشَهَّدْ فَإِذَا فَرَغَ فَلَمْ يَبْقَ إِلاَّ أَنْ يُسَلِّمَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ثُمَّ لْيُسَلِّمْ " . ثُمَّ ذَكَرَ مَعْنَى مَالِكٍ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ كَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ وَهْبٍ عَنْ مَالِكٍ وَحَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ وَدَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ وَهِشَامِ بْنِ سَعْدٍ إِلاَّ أَنَّ هِشَامًا بَلَغَ بِهِ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ .
اردو ترجمہ
اس طریق سے بھی زید بن اسلم سے مالک ہی کی سند سے مروی ہے، زید کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کو نماز میں شک ہو جائے تو اگر اسے یقین ہو کہ میں نے تین ہی رکعت پڑھی ہے تو کھڑا ہو اور ایک رکعت اس کے سجدوں کے ساتھ پڑھ کر اسے پوری کرے پھر بیٹھے اور تشہد پڑھے، پھر جب ان سب کاموں سے فارغ ہو جائے اور صرف سلام پھیرنا باقی رہے تو سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے پھر سلام پھیرے ۔ پھر راوی نے مالک کی روایت کے ہم معنی حدیث ذکر کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے ابن وہب نے مالک، حفص بن میسرہ، داود بن قیس اور ہشام بن سعد سے روایت کیا ہے، مگر ہشام نے اسے ابو سعید خدری تک پہنچایا ہے۔
انگریزی ترجمہ
Zaid b. Aslam reported on the authority of the chain of Malik:The Prophet (ﷺ) said: If one of you is in doubt about his prayer, and if he is sure that he prayed three rak'ah, he should stand and complete one rak'ah along with its prostrations. Then he should sit and recite the tashahhud. When he finishes the prayer, and there remains nothing except salutation, he should make two prostrations while he is sitting and afterwards should give the salutation. The narrator then narrated the tradition similar to that of Malik. Abu Dawud said: Similarly, this tradition has been narrated by Ibn Wahb from Malik, Hafs b. Maisarah, Dawud b. Qais and Hisham b. Sa'd. But Hisham projected it to Abu Sa'id al-Khudri
سند دیکھیں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، بِإِسْنَادِ مَالِكٍ قَالَ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ
اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔