مرکزی مواد پر جائیں
سنن ابو داؤد کی طرف واپس

سنن ابو داؤد #102

مسلسل نمبر: 102 · کتاب 1، حدیث 102

100%
زیرِ جائزہ
صحیحSahih Maqtu (Al-Albani)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنِ الدَّرَاوَرْدِيِّ، قَالَ وَذَكَرَ رَبِيعَةُ أَنَّ تَفْسِيرَ، حَدِيثِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ أَنَّهُ الَّذِي يَتَوَضَّأُ وَيَغْتَسِلُ وَلاَ يَنْوِي وُضُوءًا لِلصَّلاَةِ وَلاَ غُسْلاً لِلْجَنَابَةِ ‏.‏

اردو ترجمہ

عبدالعزیز دراوردی کہتے ہیں کہ ربیعہ نے ذکر کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث: «لا وضوء لمن لم يذكر اسم تفسیر یہ ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو وضو اور غسل کرے لیکن نماز کے وضو اور جنابت کے غسل کی نیت نہ کرے۔الله عليه» کی

انگریزی ترجمہ

Explaining the tradition of the Prophet (ﷺ) that the ablution of a person who does not mention the name of Allah is valid, Rabi’ah said:This tradition means that if a person performs ablution and takes a bath but does not have the intention to perform ablution for prayer and purify himself from sexual defilement, his ablution or bath is not valid

سند دیکھیں

اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔