مرکزی مواد پر جائیں
ٹائم لائن · ملوکیت و مسلم حکمرانی (661ء – 1924ء)

سقوطِ غرناطہ — اندلس میں مسلم اقتدار کا خاتمہ

1492ء897 ہجری

ٹائم لائن پر دیکھیں ←
عیسوی تاریخ1492ء
ہجری تاریخ897 ہجری
دورملوکیت و مسلم حکمرانی

آخری نصری حکمران ابوعبداللہ (بوابدل) نے غرناطہ فرڈینینڈ و ازابیلا کے حوالے کیا، جس سے اندلس میں آٹھ صدیوں پر محیط مسلم حکومت ختم ہو گئی۔

گیارہویں صدی میں خلافتِ قرطبہ کے ٹوٹنے کے بعد اندلس میں مسیحی ریاستوں کی پیش قدمی (ریکونکوئسٹا) بتدریج بڑھتی گئی۔ تیرہویں صدی تک قرطبہ اور اشبیلیہ جیسے شہر ہاتھ سے نکل گئے اور مسلم اقتدار جنوب میں غرناطہ کی نصری امارت تک محدود رہ گیا، جو قشتالہ کو خراج دے کر باقی رہی اور جس نے الحمراء جیسا شاہکار چھوڑا۔

1469ء میں قشتالہ کی ملکہ ازابیلا اور اراگون کے بادشاہ فرڈینینڈ کی شادی سے دونوں بڑی مسیحی ریاستیں متحد ہو گئیں۔ غرناطہ کے اندرونی خاندانی جھگڑوں، خصوصاً ابوالحسن علی اور اس کے بیٹے ابوعبداللہ (بوابدل) کی رقابت، نے دفاع کمزور کر دیا۔ کئی برس کے محاصرے کے بعد 2 جنوری 1492ء کو ابوعبداللہ نے غرناطہ کی چابیاں حوالے کر دیں۔

معاہدے میں مسلمانوں کو مذہبی آزادی کا وعدہ کیا گیا تھا، مگر چند برس بعد جبری تبدیلیٔ مذہب اور بعد ازاں جلاوطنی شروع ہو گئی؛ 1609ء میں موریسکو مسلمانوں کو اسپین سے نکال دیا گیا۔ آٹھ سو سالہ اندلسی مسلم تہذیب کا خاتمہ ہو گیا، لیکن اس کے علمی ورثے نے یورپ کی نشاۃِ ثانیہ پر گہرا اثر چھوڑا۔

ملوکیت و مسلم حکمرانیجنگیں و معرکے

متعلقہ شخصیات