حضرت حسینؓ اور آپ کے اہلِ بیت و رفقاء کو کربلا (عراق) کے مقام پر یزید کی فوج کے ہاتھوں شہید کیا گیا۔
حضرت معاویہؓ کے بعد یزید تخت نشین ہوا تو حضرت حسینؓ نے اس کی بیعت سے انکار کیا، کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ یہ اصولِ شورائیت کے خلاف ہے۔ کوفہ کے لوگوں نے آپ کو خطوط لکھ کر بلایا۔ حضرت حسینؓ نے اپنے چچا زاد مسلم بن عقیل کو حالات جاننے بھیجا، مگر والیِ کوفہ عبیداللہ بن زیاد کی سختی کے باعث مسلم بن عقیل شہید ہو گئے اور اہلِ کوفہ ساتھ چھوڑ گئے۔
حضرت حسینؓ اپنے اہلِ خانہ اور تقریباً بہتر ساتھیوں کے ہمراہ کربلا میں پہنچے، جہاں انہیں ہزاروں کے لشکر نے گھیر لیا اور پانی بند کر دیا گیا۔ 10 محرم 61 ہجری کو ایک غیر مساوی معرکے میں آپ، آپ کے عزیز اور رفقا شہید ہوئے۔
اس واقعے پر پوری امت میں گہرا رنج پایا جاتا ہے۔ اسے حق پر ثابت قدمی، ظلم کے سامنے سر نہ جھکانے اور قربانی کی علامت سمجھا جاتا ہے، اور مسلمانوں کے تمام مسالک اس سانحے پر افسوس اور اہلِ بیت سے محبت کا اظہار کرتے ہیں۔