چالیس برس کی عمر میں غارِ حرا میں پہلی وحی 'اقرأ' کے ساتھ نازل ہوئی، اور رسالت کا آغاز ہوا۔
نبوت سے پہلے نبی کریم ﷺ اکثر مکہ کے قریب جبلِ نور کی غارِ حرا میں تنہائی اختیار کر کے غور و فکر اور عبادت کرتے تھے۔ ایک رات، جو رمضان المبارک کی بتائی جاتی ہے، حضرت جبرائیلؑ آپ کے پاس آئے اور فرمایا 'اقرأ' یعنی پڑھو۔ آپ نے فرمایا کہ میں پڑھنا نہیں جانتا؛ تین بار کے مکالمے کے بعد سورۃ العلق کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں۔
اس تجربے سے آپ پر شدید کیفیت طاری ہوئی اور آپ گھر لوٹے تو حضرت خدیجہؓ نے آپ کو تسلی دی اور اپنے چچا زاد ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں، جنہوں نے بتایا کہ یہ وہی ناموس ہے جو موسیٰؑ پر نازل ہوا تھا۔ حضرت خدیجہؓ سب سے پہلے ایمان لانے والوں میں شامل ہوئیں۔
ابتدائی برسوں میں دعوت خفیہ اور محدود رہی، پھر تین سال بعد کھلے عام تبلیغ کا حکم ہوا۔ وحی کا یہ سلسلہ تقریباً تئیس برس جاری رہا اور آخرکار قرآنِ مجید کی صورت میں مکمل ہوا۔