یمن کے حکمران ابرہہ نے فیل کے لشکر کے ساتھ خانہ کعبہ پر حملہ کیا، جو اللہ کے حکم سے ناکام بنا دیا گیا۔ اسی سال نبی کریم ﷺ کی ولادت ہوئی۔
اس زمانے میں یمن پر حبشہ کی سرپرستی میں ابرہہ کی حکومت تھی۔ اس نے صنعاء میں ایک عظیم گرجا (القلیس) تعمیر کروایا تاکہ عرب حج کے لیے مکہ کے بجائے وہیں آئیں۔ عربوں نے اس کی پروا نہ کی، اور روایات کے مطابق کسی نے گرجے کی بے حرمتی بھی کر دی، جس پر ابرہہ نے کعبہ کو ڈھانے کا ارادہ کیا۔
وہ ایک بڑا لشکر لے کر، جس میں ہاتھی بھی شامل تھے، مکہ کی طرف بڑھا۔ قریش کے سردار عبدالمطلب نے لشکر کا سامنا کرنے کی سکت نہ پا کر مکہ والوں کو پہاڑوں پر چلے جانے کا مشورہ دیا اور فرمایا کہ اس گھر کا ایک رب ہے جو خود اس کی حفاظت کرے گا۔ قرآنِ مجید کی سورۃ الفیل میں بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابابیل جیسے پرندوں کے جھنڈ بھیجے جن کی کنکریوں سے لشکر تباہ ہو گیا۔
اس واقعے نے قریش کی مذہبی ساکھ اور مکہ کی حرمت کو عربوں کی نظر میں مزید بلند کر دیا۔ عربوں نے اس سال کو 'عامُ الفیل' کہہ کر تاریخ کا ایک نقطۂ آغاز بنا لیا، اور اسی سال نبی کریم ﷺ کی ولادت ہوئی۔