سلیمان علیہ السلام
Sulayman AS (Solomon)
نبی اور بادشاہ، داودؑ کے فرزند، جنہیں حکمت اور ہواؤں و جنات پر اختیار ملا۔
قرآنِ مجید میں ذکر
قرآنِ مجید سلیمان علیہ السلام کو داؤد علیہ السلام کا وارث قرار دیتا ہے، جنہیں ہوا، جنات اور پرندوں پر اختیار ملا، اور ملکۂ سبا کے ساتھ ان کا واقعہ بیان کرتا ہے۔
داؤد کی وراثت اور پرندوں کی بولی
سلیمان داؤد کے وارث ہوئے اور کہا: لوگو! ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہر چیز عطا کی گئی ہے۔
کھیت کے مقدمے کی سمجھ
کھیت کے مقدمے میں اللہ نے صحیح فیصلہ سلیمان کو سمجھا دیا۔
ہوا کا مسخر ہونا
تیز ہوا ان کے حکم سے چلتی تھی؛ اس کی صبح کی منزل ایک مہینے کی اور شام کی منزل ایک مہینے کی تھی۔
جنات کی خدمت
جنات ان کے لیے محرابیں، مجسمے، حوض جیسے لگن اور جمی ہوئی دیگیں بناتے تھے؛ ان کے لیے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ بہایا گیا۔
عمدہ گھوڑے
شام کے وقت ان کے سامنے عمدہ تیز رو گھوڑے پیش کیے گئے۔
آزمائش اور بے مثال بادشاہی کی دعا
اللہ نے سلیمان کو آزمایا؛ پھر انہوں نے رجوع کیا اور دعا کی: اے رب! مجھے بخش دے اور ایسی بادشاہی دے جو میرے بعد کسی کو زیبا نہ ہو۔
چیونٹیوں کی وادی
ایک چیونٹی نے کہا: اپنے گھروں میں گھس جاؤ، کہیں سلیمان اور ان کے لشکر تمہیں بے خبری میں کچل نہ دیں۔ وہ مسکرائے اور شکر کی دعا کی۔
ہدہد اور سبا کی خبر
ہدہد نے خبر دی کہ سبا پر ایک عورت حکومت کرتی ہے اور وہ لوگ سورج کو سجدہ کرتے ہیں؛ سلیمان نے اس کے ہاتھ خط بھیجا۔
ملکہ کا خط اور تحفہ
ملکہ نے سرداروں سے مشورہ کیا اور تحفہ بھیجا؛ سلیمان نے اسے رد کر دیا کہ اللہ نے مجھے اس سے بہتر دیا ہے۔
ملکہ کا تخت
جس کے پاس کتاب کا علم تھا اس نے پلک جھپکنے سے پہلے تخت حاضر کر دیا؛ سلیمان نے کہا: یہ میرے رب کا فضل ہے، تاکہ مجھے آزمائے۔
ملکہ کا آنا اور اسلام لانا
ملکہ آئی، محل کے شفاف فرش کو پانی سمجھی، اور کہا: میں سلیمان کے ساتھ اللہ رب العالمین کے لیے اسلام لائی۔
جادو کے الزام سے بریت
سلیمان نے کفر نہیں کیا، بلکہ شیطانوں نے کفر کیا جو لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔
وفات
ان کی وفات کا پتا جنات کو صرف اس وقت چلا جب زمین کے کیڑے نے ان کا عصا کھا لیا اور وہ گر پڑے۔