صالح علیہ السلام
Salih AS
قومِ ثمود کی طرف بھیجے گئے نبی، اللہ کی اونٹنی کے واقعے سے منسوب۔
قرآنِ مجید میں ذکر
قرآنِ مجید کے مطابق صالح علیہ السلام قومِ ثمود کی طرف بھیجے گئے؛ نشانی کے طور پر انہیں اونٹنی دی گئی، قوم نے اسے مار ڈالا اور عذاب سے ہلاک ہوئی۔
قومِ ثمود کی طرف بعثت
انہوں نے کہا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو؛ اسی نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور اس میں بسایا۔
نعمتوں کی یاد دہانی
انہیں یاد دلایا گیا کہ وہ باغوں اور چشموں میں ہیں اور پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے ہیں۔
قوم کا انکار
متکبر سرداروں نے انکار کیا اور کہا کہ کیا ہم اپنے ہی میں سے ایک بشر کی پیروی کریں؟
اونٹنی بطور نشانی
اللہ کی اونٹنی ان کے لیے نشانی تھی؛ حکم ہوا کہ اسے اللہ کی زمین میں چرنے دو، پانی کی باری بانٹ لو اور اسے تکلیف نہ پہنچاؤ۔
اونٹنی کو مار ڈالنا
انہوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں اور اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی۔
نو آدمیوں کی سازش
شہر کے نو آدمیوں نے رات کو صالح اور ان کے گھر والوں پر حملے کی قسم کھائی، مگر اللہ نے ان کی چال ناکام کر دی۔
عذاب اور صالح کی نجات
ظالموں کو ایک زبردست چنگھاڑ نے آ لیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے؛ صالح اور اہلِ ایمان بچا لیے گئے۔