مرکزی مواد پر جائیں
فہرست پر واپس جائیں

نوح علیہ السلام

Nuh AS (Noah)

انبیاءدور: انبیاء علیہم السلام

وہ نبی جنہوں نے صدیوں اپنی قوم کو اللہ کی طرف بلایا اور اللہ کے حکم سے کشتی بنائی۔

قرآنِ مجید میں ذکر

قرآنِ مجید نوح علیہ السلام کی طویل دعوت، قوم کے انکار، کشتی کی تیاری، طوفان اور اہلِ ایمان کی نجات کا واقعہ تفصیل سے بیان کرتا ہے؛ ایک پوری سورت ان کے نام سے ہے۔

  1. قوم کی طرف بعثت اور توحید کی دعوت

    انہوں نے کہا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں؛ مجھے تم پر ایک بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے۔

  2. ساڑھے نو سو برس کی دعوت

    وہ اپنی قوم میں پچاس کم ہزار برس رہے؛ انہیں رات دن، کھلے اور چھپے بلایا مگر وہ اور دور بھاگے۔

  3. سرداروں کا انکار

    قوم کے سرداروں نے کہا کہ تم ہم جیسے بشر ہو اور تمہارے پیرو ہمارے ادنیٰ لوگ ہیں؛ انہوں نے انہیں جھٹلایا اور دیوانہ کہا۔

  4. اللہ سے مدد کی دعا

    انہوں نے پکارا کہ میں مغلوب ہوں، میری مدد فرما؛ اے رب! زمین پر کافروں کا کوئی گھر باقی نہ چھوڑ۔

  5. کشتی بنانے کا حکم

    وحی آئی کہ ہماری نگرانی میں کشتی بناؤ؛ قوم کے سردار پاس سے گزرتے تو مذاق اڑاتے۔

  6. طوفان اور کشتی میں سواری

    آسمان کے دروازے کھل گئے اور زمین سے چشمے پھوٹ پڑے؛ ہر قسم کا ایک ایک جوڑا اور اہلِ ایمان کشتی میں سوار ہوئے۔

  7. بیٹے کا انکار اور غرق ہونا

    نوح نے بیٹے کو پکارا مگر اس نے پہاڑ کی پناہ چاہی اور ڈوب گیا؛ نوح کی عرض پر فرمایا گیا کہ وہ تمہارے اہل میں سے نہیں، اس کے عمل اچھے نہیں۔

  8. طوفان کا تھمنا اور سلامتی کے ساتھ اترنا

    حکم ہوا: اے زمین! اپنا پانی نگل جا، اے آسمان! تھم جا۔ کشتی جودی پر ٹھہری اور نوح کو سلامتی اور برکتوں کے ساتھ اترنے کو کہا گیا۔

  9. نوح کی بیوی کی مثال

    اللہ نے کافروں کے لیے نوح اور لوط کی بیویوں کی مثال دی، جو دو نیک بندوں کے نکاح میں تھیں مگر انہوں نے خیانت کی۔

  10. شکر گزار بندہ

    وہ شکر گزار بندے تھے؛ تمام جہانوں میں نوح پر سلام ہو۔