موسیٰ علیہ السلام
Musa AS
حضرت موسیٰ علیہ السلام قرآن کریم میں سب سے زیادہ ذکر کیے جانے والے نبی ہیں۔ آپ کو فرعون اور بنی اسرائیل کی طرف بھیجا گیا، تورات عطا کی گئی، اور مصر سے بنی اسرائیل کے نکلنے اور کوہِ طور پر اللہ سے براہِ راست ہم کلامی کے واقعات آپ سے منسوب ہیں۔ آپ کا واقعہ قرآن میں بار بار ایمان، صبر اور اللہ کی نصرت کے سبق کے طور پر بیان ہوا ہے۔
قرآنِ مجید میں ذکر
قرآنِ مجید میں سب سے زیادہ ذکر موسیٰ علیہ السلام کا ہے: ولادت اور فرعون کے گھر پرورش سے لے کر مدین، نبوت، فرعون سے مقابلہ، بنی اسرائیل کی نجات، تورات اور بعد کے واقعات تک۔
فرعون کا ظلم
فرعون نے زمین میں سرکشی کی، لوگوں کو گروہوں میں بانٹا، ایک گروہ کے بیٹوں کو ذبح کرتا تھا؛ اللہ نے کمزور کیے گئے لوگوں پر احسان کا ارادہ کیا۔
ولادت، دریا اور فرعون کے گھر پرورش
موسیٰ کی والدہ کو الہام ہوا کہ بچے کو دریا میں ڈال دو؛ فرعون کے گھر والوں نے انہیں اٹھا لیا اور اللہ نے انہیں ان کی والدہ کے پاس لوٹا دیا۔
ایک آدمی کا قتل اور مصر سے نکلنا
انہوں نے ایک آدمی کو گھونسا مارا تو وہ مر گیا؛ انہوں نے مغفرت مانگی، اور خبر ملنے پر شہر سے نکل گئے۔
مدین، کنواں اور نکاح
مدین کے پانی پر انہوں نے دو عورتوں کے جانوروں کو پانی پلایا؛ ان کے والد نے آٹھ یا دس برس کی خدمت پر اپنی ایک بیٹی کا نکاح ان سے کیا۔
طور پر آگ اور نبوت
انہوں نے آگ دیکھی؛ وادیِ طویٰ میں پکارا گیا: میں ہی اللہ ہوں۔ انہیں عصا اور روشن ہاتھ کی نشانیاں دی گئیں۔
فرعون کی طرف بھیجا جانا
حکم ہوا کہ فرعون کے پاس جاؤ، وہ سرکش ہو گیا ہے؛ انہوں نے سینہ کھولنے، کام آسان ہونے اور ہارون کو مددگار بنانے کی دعا کی۔
فرعون سے گفتگو
فرعون نے پوچھا: تمہارا رب کون ہے؟ فرمایا: ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی صورت دی، پھر راہ دکھائی۔
جادوگروں سے مقابلہ
عصا نے جادوگروں کا سارا جھوٹ نگل لیا؛ جادوگر سجدے میں گر پڑے اور بولے: ہم رب العالمین پر ایمان لائے۔ فرعون نے انہیں سولی کی دھمکی دی۔
فرعون کا ظلم اور صبر کی تلقین
فرعون نے بیٹوں کے قتل کی دھمکی دی؛ موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ آلِ فرعون کے ایک مومن نے ان کا دفاع کیا۔
نشانیاں اور عذاب
آلِ فرعون پر قحط، طوفان، ٹڈیاں، جوئیں، مینڈک اور خون بھیجے گئے؛ ہر بار انہوں نے وعدہ کیا اور پھر توڑ دیا۔
خروج، سمندر کا پھٹنا اور فرعون کا غرق ہونا
موسیٰ نے عصا سمندر پر مارا تو وہ پھٹ گیا؛ بنی اسرائیل پار ہو گئے اور فرعون اپنے لشکر سمیت ڈوب گیا۔
من و سلویٰ اور بارہ چشمے
ان پر بادل کا سایہ کیا گیا اور من و سلویٰ اتارا گیا؛ موسیٰ نے چٹان پر عصا مارا تو بارہ چشمے پھوٹ نکلے۔
چالیس راتیں، دیدار کی درخواست اور تختیاں
چالیس راتوں کی میعاد پر موسیٰ نے عرض کیا: اے رب! مجھے اپنا دیدار کرا۔ رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی تو وہ ریزہ ریزہ ہو گیا؛ پھر انہیں تختیاں عطا ہوئیں۔
بچھڑے کی پوجا
ان کی غیر موجودگی میں قوم نے بچھڑے کو معبود بنا لیا؛ موسیٰ غصے اور رنج میں لوٹے، اور قوم نے توبہ کی۔
ستر آدمیوں کا انتخاب
موسیٰ نے اپنی قوم کے ستر آدمی مقررہ وقت کے لیے چنے؛ زلزلے نے انہیں آ لیا تو موسیٰ نے رحم کی دعا کی۔
گائے ذبح کرنے کا حکم
موسیٰ نے کہا کہ اللہ تمہیں ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے؛ قوم سوال پر سوال کرتی رہی اور آخرکار ذبح کیا۔
مقدس سرزمین میں داخلے سے انکار
قوم نے کہا: تم اور تمہارا رب جا کر لڑو، ہم یہیں بیٹھے ہیں۔ چنانچہ وہ سرزمین چالیس برس ان پر حرام کر دی گئی۔
قارون
قارون موسیٰ کی قوم میں سے تھا مگر اپنے خزانوں پر اترایا؛ اللہ نے اسے اس کے گھر سمیت زمین میں دھنسا دیا۔
اللہ کے ایک بندے کے ساتھ سفر
موسیٰ اللہ کے ایک ایسے بندے سے ملے جسے خاص علم دیا گیا تھا، اور کشتی، لڑکے اور دیوار کے واقعات پر صبر نہ کر سکے۔
قوم کی طرف سے ایذا
موسیٰ نے کہا: اے میری قوم! تم مجھے کیوں ستاتے ہو حالانکہ جانتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ اللہ نے انہیں لوگوں کی باتوں سے بری کر دیا۔
اللہ سے ہم کلامی اور کتاب
اللہ نے موسیٰ سے کلام فرمایا، انہیں قریب کیا اور کتاب عطا کی جو ہدایت اور رحمت تھی۔