ہارون علیہ السلام
Harun AS (Aaron)
نبی، موسیٰؑ کے بھائی اور معاون۔
قرآنِ مجید میں ذکر
قرآنِ مجید کے مطابق ہارون علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام کے بھائی تھے، جنہیں موسیٰ کی دعا پر نبی اور ان کا مددگار بنایا گیا۔
موسیٰ کی دعا پر نبوت
موسیٰ نے عرض کیا کہ میرے بھائی ہارون کو میرا مددگار بنا، وہ مجھ سے زیادہ فصیح ہیں؛ اللہ نے اپنی رحمت سے ہارون کو نبی بنا دیا۔
فرعون کی طرف دونوں کی بعثت
دونوں کو حکم ہوا کہ فرعون کے پاس جاؤ اور اس سے نرمی سے بات کرو، شاید وہ نصیحت قبول کرے۔
موسیٰ کی غیر موجودگی میں جانشینی
موسیٰ نے جاتے ہوئے کہا: میری قوم میں میری جانشینی کرنا، اصلاح کرنا اور فساد کرنے والوں کی راہ نہ چلنا۔
بچھڑے کے معاملے میں قوم کو روکنا
ہارون نے کہا تھا: اے میری قوم! تم اس سے آزمائش میں پڑ گئے ہو؛ تمہارا رب رحمٰن ہے، سو میری پیروی کرو۔ قوم نہ مانی۔
موسیٰ کی ناراضی اور ہارون کا جواب
موسیٰ نے ان کا سر اور داڑھی پکڑی؛ انہوں نے کہا: اے میری ماں کے بیٹے! قوم نے مجھے کمزور سمجھا اور قریب تھا کہ مجھے مار ڈالتے۔ موسیٰ نے دونوں کے لیے مغفرت مانگی۔
فضیلت
موسیٰ اور ہارون کو فرقان اور روشنی دی گئی؛ دونوں پر سلام ہو، وہ اللہ کے مومن بندوں میں سے تھے۔