داود علیہ السلام
Dawud AS (David)
نبی اور بادشاہ جنہیں زبور عطا ہوئی؛ جالوت کو شکست دی۔
قرآنِ مجید میں ذکر
قرآنِ مجید داؤد علیہ السلام کو نبی اور بادشاہ قرار دیتا ہے جنہیں زبور، حکمت اور فیصلے کی قوت عطا ہوئی؛ پہاڑ اور پرندے ان کے ساتھ تسبیح کرتے تھے۔
جالوت کا قتل اور بادشاہی
داؤد نے جالوت کو قتل کیا؛ اللہ نے انہیں بادشاہی اور حکمت دی اور جو چاہا سکھایا۔
زبور
اللہ نے داؤد کو زبور عطا کی۔
پہاڑوں اور پرندوں کی تسبیح
پہاڑ اور پرندے صبح و شام ان کے ساتھ اللہ کی تسبیح کرتے تھے۔
لوہے کا نرم ہونا اور زرہ سازی
ان کے لیے لوہا نرم کر دیا گیا اور انہیں زرہیں بنانا سکھایا گیا۔
مضبوط سلطنت اور فیصلہ کن بات
اللہ نے ان کی سلطنت مضبوط کی اور انہیں حکمت اور فیصلہ کن بات کہنے کی صلاحیت دی۔
دو فریقوں کا مقدمہ اور رجوع
دو فریق دیوار پھاند کر ان کے پاس آئے؛ داؤد سمجھ گئے کہ یہ ان کی آزمائش تھی، سو مغفرت مانگی، سجدے میں گرے اور رجوع کیا۔
زمین میں خلافت
اے داؤد! ہم نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنایا ہے، سو لوگوں میں حق کے ساتھ فیصلہ کرو اور خواہش کی پیروی نہ کرو۔
کھیت کا مقدمہ
داؤد اور سلیمان نے اس کھیت کا فیصلہ کیا جس میں رات کو لوگوں کی بکریاں چر گئی تھیں؛ دونوں کو حکمت اور علم دیا گیا۔
شکر اور فضیلت
داؤد اور سلیمان کو علم دیا گیا اور انہوں نے اللہ کا شکر ادا کیا؛ آلِ داؤد کو شکر کے ساتھ عمل کا حکم ہوا۔