مرکزی مواد پر جائیں
فہرست پر واپس جائیں

آدم علیہ السلام

Adam AS

انبیاءدور: انبیاء علیہم السلام

پہلے انسان اور اسلامی روایت کے مطابق پہلے نبی۔

قرآنِ مجید میں ذکر

قرآنِ مجید آدم علیہ السلام کی تخلیق، فرشتوں کے سجدے، ابلیس کے انکار، جنت میں قیام، لغزش، توبہ اور زمین پر اتارے جانے کا واقعہ کئی سورتوں میں بیان کرتا ہے۔

  1. زمین میں خلیفہ بنانے کا اعلان

    اللہ نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں؛ فرشتوں نے پوچھا کہ کیا آپ اسے بنائیں گے جو فساد کرے اور خون بہائے؟ فرمایا: میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔

  2. مٹی سے تخلیق

    اللہ نے انہیں مٹی سے پیدا کیا، درست کیا اور ان میں اپنی روح پھونکی۔

  3. ناموں کا علم

    اللہ نے آدم کو سب چیزوں کے نام سکھائے؛ فرشتے نہ بتا سکے اور آدم نے بتا دیے۔

  4. فرشتوں کا سجدہ اور ابلیس کا انکار

    فرشتوں کو آدم کے آگے سجدے کا حکم ہوا تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے، جس نے تکبر کیا اور کہا کہ میں اس سے بہتر ہوں۔

  5. ابلیس کو مہلت اور اس کا عہد

    ابلیس کو نکال دیا گیا؛ اس نے قیامت تک مہلت مانگی اور کہا کہ وہ انسانوں کو بہکائے گا، سوائے اللہ کے مخلص بندوں کے۔

  6. جنت میں قیام اور ایک درخت کی ممانعت

    آدم اور ان کی بیوی کو جنت میں رہنے اور جہاں سے چاہیں کھانے کو کہا گیا، مگر ایک درخت کے قریب جانے سے روکا گیا اور بتایا گیا کہ شیطان ان کا دشمن ہے۔

  7. شیطان کا وسوسہ اور لغزش

    شیطان نے قسمیں کھا کر دونوں کو بہکایا؛ انہوں نے درخت کا پھل چکھ لیا تو ان کے ستر ان پر کھل گئے۔

  8. توبہ اور اس کی قبولیت

    دونوں نے کہا: اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا۔ آدم نے اپنے رب سے چند کلمات سیکھے اور اللہ نے ان کی توبہ قبول کی۔

  9. زمین پر اتارا جانا اور ہدایت کا وعدہ

    حکم ہوا کہ سب یہاں سے اتر جاؤ؛ پھر جب میری طرف سے ہدایت آئے تو جو اس کی پیروی کرے گا اسے نہ خوف ہوگا نہ غم۔

  10. آدم کے دو بیٹے

    دونوں نے قربانی پیش کی؛ ایک کی قبول ہوئی، دوسرے کی نہیں۔ اس نے اپنے بھائی کو قتل کر دیا اور پھر پچھتایا۔

  11. اللہ کا انتخاب

    اللہ نے آدم، نوح، آلِ ابراہیم اور آلِ عمران کو تمام جہان والوں پر چن لیا۔