رواداری کا غیر اسلامی تصوّر
اشاعت: 1942ءسید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ مضمون "تفہیم القرآن" میں آیت "وقاتلوہم حتی لا تکون فتنۃ ویکون الدین للہ" کی اس تفسیر پر کیے گئے اعتراض کے جواب میں لکھا گیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ کافر، مشرک اور دہریے کو اپنے عقیدے پر قائم رہنے کی آزادی ہے مگر اسے یہ حق نہیں کہ وہ اللہ کی زمین پر اپنے باطل قوانین نافذ کرے، اور یہ فتنہ بزورِ شمشیر مٹایا جائے گا۔ ایک صاحبِ علم نے اس پر یہ اعتراض کیا کہ یہ تفسیر "لا اکراہ فی الدین" کے منافی معلوم ہوتی ہے۔
مولانا مودودی اس اعتراض کا تفصیلی جواب دیتے ہوئے یہ فرق واضح کرتے ہیں کہ اسلام کسی کے عقیدے میں جبر روا نہیں رکھتا مگر اسے یہ اجازت بھی نہیں دیتا کہ وہ خدا کے قانون کے مقابلے میں اپنا غیر الٰہی نظام مسلط کرے، اور اسی بنیاد پر "رواداری" کے اس تصور کو غیر اسلامی قرار دیتے ہیں جو ہر عقیدے اور نظام کو مساوی درجہ دیتا ہے۔
رواداری کا غیر اسلامی تصوّر
”تفہیم القرآن“ میں آیت <<وَقٰتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ يَكُوْنَ الدِّيْنُ لِلّٰهِ فَاِنِ انْتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ اِلَّا عَلَى الظّٰلِمِيْنَ>> (البقرہ 193:2)[ آیت کا لفظی ترجمہ یہ ہے: اور ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کے لیے ہو جائے، پھر اگر وہ باز آجائیں تو دست درازی جائز نہیں ہے مگر ظالموں پر۔] کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا گیا تھا کہ ”باز آجانے سے مراد کافروں کا اپنے کفر و شرک سے باز آجانا نہیں بلکہ فتنہ سے باز آجانا ہے۔ کافر، مشرک دہریے، ہر ایک کو اختیار ہے کہ اپنا جو عقیدہ رکھتا ہے، رکھے اور جس کی چاہے عبادت کرے، یا کسی کی نہ کرے۔ اس گمراہی سے اس کو نکالنے کے لیے ہم اسے فہمائش اور نصیحت تو کریں گے مگر اس سے لڑیں گے نہیں، لیکن اسے یہ حق ہرگز نہیں ہے کہ اللہ کی زمین پر اللہ کے قانون کے بجائے اپنے باطل قوانین جاری کرے اور اللہ کے بندوں کو غیر از خدا کسی کا بندہ بنائے۔ یہ فتنہ بزورِ شمشیر مٹایا جائے گا اور مؤمن کی تلوار اس وقت تک نیام میں نہ جائے گی جب تک کفار اپنی روش سے باز نہ آجائیں“۔ اس تفسیر کے خط کشیدہ فقرے پر ناظرین ترجمان القرآن میں سے ایک صاحب علم بزرگ نے حسب ذیل اعتراض کیا ہے:
(الف) اس کے معنی یہ ہیں کہ اسلام جو امن اور سلامتی کا حامی اور مؤید ہے، دوسروں کے مذہب میں مداخلت اور اس بنا پر لڑائی روا رکھتا ہے، حالانکہ یہ <<لَاۤ اِكْرَاهَ فِى الدِّيْنِ>> (البقرہ 256:2) کے مخالف ہے۔
(ب) مخالفین کو اپنے اپنے مذہب اور عقائد پر قائم رہنے کی آزادی <<لَكُمْ دِيْنُكُمْ وَلِىَ دِيْنِ>> الکافرون 6:109 سے بھی ظاہر ہے، جو کوئی اپنے عقائد میں آزاد ہوگا، اسے ان کی اشاعت اور تبلیغ میں بھی آزادی ہونی چاہیے، کیونکہ وہ انھی عقائد کو برحق سمجھتا ہے۔ قرآنی مفہوم سے اسی آزادی کا پتا چلتا ہے اور باہمی مناظرات کا ثبوت بھی ملتا ہے، مثلاً << وَلَا تُجَادِلُوْا اَهْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ >> (العنکبوت 46:29) غیر مذاہب کے عبادت خانے اور طریق عبادت اسلامی مداخلت سے محفوظ رہے ہیں۔ حتیٰ کہ مسجد نبویؐ میں اہل کتاب کو اپنے طریق پر عبادت کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے عزیز مصر کی ملازمت اختیار کی، جس کا عقیدہ اور عمل مشرکانہ تھا۔ ہاں اپنے طور پر امن کے ساتھ تبلیغ کرتے رہے جیسا کہ << يٰصَاحِبَيِ السِّجْنِ ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَيْرٌ اَمِ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ >> (یوسف 39:12) سے ظاہر ہے، اس طرح دوسروں کو بھی اپنے خیالات کی اشاعت کا حق پہنچتا ہے۔
(ج) زیر خط عبارت کو مد نظر رکھتے ہوئے مسلمان کہیں بھی مخلوط آبادی میں امن سے زندگی نہیں گزار سکتے۔ غیر مسلم تمدنی اور معاشرتی اُمور میں بھی کیوں نہ ان کے ساتھ تعاون باہمی اور رواداری سے کام لیں۔ جبکہ ان کا سیاسی اور اساسی عقیدہ ہی سدِ راہ ہو؟ ایسے مسلمان اگر ترکی اور ایران میں بھی آباد ہوں تو بقول آپ کے وہاں بھی انھیں عَلَمِ جہاد بلند کرنا ہوگا کیونکہ ان ممالک میں حدود اور قوانین اسلامی نافذ نہیں۔ اس زمانے میں عالمگیر سیاست اس نہج پر مدوّن ہے کہ کوئی جماعت غیر معروف طریقوں سے غیر مسلموں کے ساتھ تعاون و تعامل باہمی سے کام نہیں لے سکتی، کیونکہ آپ کا فرمودہ استدلال کسی اشتراکِ عمل کے لیے مانع ہوگا۔ اگر اسلامی جماعت اپنے عقائد کی اشاعت کا حق رکھتی ہے تو اسے غیر مسلموں کو بھی، خصوصاً جبکہ وہ حکمران ہوں، وہی حق دینا ہوگا۔ ہرچہ برخود نہ پسندی بردیگراں مپسند۔ رسولِ اکرمؐ نے مدینہ منورہ کے اہلِ کتاب کے ساتھ جو تعامل باہمی کے معاہدے کیے تھے، کیا وہ معاہدے ایسی ہی شرائط پر مبنی تھے؟ مکی زندگی کے ابتدائی مراحل آپ کے استدلال کے موید نہیں۔ بالفاظِ دیگر ایسی جماعت کا وجود ہی کسی غیر مسلم حکومت کے لیے کھلا چیلنج ہے کہ جونہی اسے قوت ملی وہ اس کے قوانین اور اس کے نظام حکومت کو مٹانے کے لیے تلوار ہاتھ میں لے لے گی۔ کون اس کو برداشت کرے گا؟“
اس اعتراض کا مختصر جواب تو چند جملوں میں بھی دیا جاسکتا ہے، لیکن در حقیقت یہ اعتراض اپنی پشت پر غلط فہمیوں کا ایک بڑا انبار رکھتا ہے، اور وہ غلط فہمیاں اُمت میں بڑی کثرت سے پھیلی ہوئی ہیں، حتیٰ کہ ان کی وجہ سے مسلمان بالعموم اپنے دین کے بنیادی تقاضوں تک کو سمجھنے سے قاصر ہورہے ہیں، اس لیے یہاں ذرا اس پر تفصیل سے بحث کی جاتی ہے۔
یہ بحث تو بعد میں ہوتی رہے گی کہ اسلام امن اور سلامتی کا مؤید کس معنی میں ہے اور لَا اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ اور لَكُمْ دِيْنُكُمْ وَلِيَ دِيْنِ کا کیا مطلب ہے اور یہ کہ حضرت یوسف علیہ السلام نبوت کرنے آئے تھے یا تلاش روزگار میں نکلے تھے۔ ان باتوں سے پہلے اس سوال کا تصفیہ ہونا چاہیے کہ فی الواقع اسلام کا مشن اس دنیا میں ہے کیا؟ کیا وہ جباروں کی سواری کے لیے انسانوں کو سدھانے آیا ہے تا کہ ہر جبار جب دنیا میں خدائی کرنے اُٹھے تو اسلام کے پیروؤں کو اپنا اطاعت گزار خادم پائے؟ کیا اس نے دنیا بھر کی حکومتوں اور سلطنتوں کے لیے پُر امن رعیت فراہم کرنے کا اجارہ لیا ہے کہ ہر حکومت کو، خواہ اس کا نظام کسی نوعیت کا ہو، اپنی مشینری چلانے کے لیے اسلام کے کارخانے سے ہر قسم کے ڈھلے ڈھلائے پُرزے حاصل ہو جایا کریں؟ کیا اس کا کام بس یہی ہے کہ چند عقائد اور چند اصولِ اخلاق کی تعلیم دے کر آدمیوں میں اتنی لچک اور اتنی نرمی پیدا کر دے کہ وہ ہر نظامِ تمدن میں، خواہ وہ کسی قسم کا تمدن ہو، بآسانی کھپ سکیں؟ اگر معاملہ حقیقت میں یہی ہے تو اسلام بودھ مذہب اور سینٹ پال کی بنائی ہوئی مسیحیت سے کچھ بہت زیادہ مختلف چیز نہیں ہے اور اس کے بعد یہ سمجھنا ہمارے لیے مشکل ہے کہ ایسے مذہب کی کتاب میں قَاتِلُوْهُمْ جیسا خوف ناک لفظ سرے سے آیا ہی کیوں۔ اسے تو اپنے پیروؤں کو جنگ اور جہاد کا حکم دینے کے بجائے اپنے مخالفین سے یہ کہنا چاہیے تھا کہ: ”ہم غریبوں کو آخر کیوں مارتے ہو؟ ہم نہ نظامِ حکومت میں کوئی انقلاب برپا کرنا چاہیں نہ نظامِ تمدن میں کسی ترمیم و تنسیخ کی دعوت دیں۔ اقتدار کسی کا بھی ہو، اُس کے ماتحت پُر امن باشندوں کی حیثیت سے رہنا ہمارا مسلک اور حکومتِ وقت کی وفاداری ہمارا دین و ایمان۔ پھر ہم سے تمھیں پرخاش کی کیا وجہ؟ رہا ہمارا مذہبی عقیدہ اور ہمارا پوجا پاٹ کا نظام تو اس سے تمھارا کیا بگڑتا ہے؟ تمھارا کون سا تمدنی ادارہ اور کون سا مفاد ایسا ہے جس پر ہمارے عقیدے یا ہماری پوجا کی ضرب پڑتی ہو؟"
یہ جواب اگر اچھے معقول پیرایہ میں دیا جاتا اور عملاً نبیؐ اور آپ کے پیرو وفادارانہ خدمات بھی انجام دیتے رہتے تو مشرکین مکہ ہمارے انگریز آقاؤں کے مقابلے[ واضح رہے کہ یہ مضمون ۱۹۴۲ء میں لکھا گیا تھا۔] میں کچھ ایسے زیادہ نامعقول نہ تھے کہ مسجدوں میں اذان و نماز کی آزادی اور تبلیغی انجمنوں کے قیام کی اجازت نہ دیتے۔ لیکن اگر حقیقت یہ نہیں ہے بلکہ اسلام خود ایک نظامِ زندگی رکھتا ہے۔ جس میں عقائد، اخلاق اور عبادات کے ساتھ انفرادی طرزِ عمل اور اجتماعی زندگی کے تمام معاملات سے متعلق احکام و قوانین بھی ہیں، اور اگر اسلام کی دعوت اپنے اس پورے نظام کی طرف ہے، اور اگر اس کا دعویٰ یہ ہے کہ اس کا اپنا نظام ہی برحق ہے اور اسی میں انسان کی فلاح ہے اور اس کے سوا ہر دوسرا نظام باطل ہے، تو ان باتوں کے ساتھ یہ قطعی ناگزیر ہے کہ اسلام زمین میں اپنے نظام کو غالب اور دوسرے نظامات کو مغلوب کرنے کا بھی تقاضا کرے۔ ایک نظامِ زندگی کو حق اور صدق ہونے کی حیثیت سے پیش کرنا اور پھر عملاً اس کی اقامت کی دعوت نہ دینا سراسر ایک مہمل بات ہے۔ اور اس سے بھی زیادہ مہمل بات یہ ہے کہ دوسرے نظامات کو باطل کہا جائے اور پھر ان کے غلبے کو برداشت بھی کیا جائے۔ مزید برآں یہ بات بداہتہً محال ہے کہ ایک نظامِ زندگی کی پیروی کسی دوسرے نظامِ زندگی کے ماتحت رہتے ہوئے کی جاسکے، اس لیے وہ صرف ایک فاتر العقل ہی ہو سکتا ہے جو ایک ہی وقت میں اپنے پیش کردہ نظام کی پیروی کا مطالبہ بھی کرے اور ساتھ ہی دوسرے نظامات کے اندر پرامن وفادارانہ زندگی بسر کرنے کی تعلیم بھی دے۔
پس اسلام کا اپنے مخصوص نظامِ زندگی کی طرف دعوت دینا عین اپنی فطرت میں اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ دوسرے نظامات کو ہٹا کر ان کی جگہ اپنے نظام کی اقامت کا مطالبہ کرے، اور اس مقصد کے لیے اپنے پیرووں کو جدوجہد کی اُن تمام صورتوں کے اختیار کرنے کا حکم دے جن سے یہ مقصد حاصل ہوا کرتا ہے اور مدعیانِ اتباع کے ایمان و عدمِ ا یمان کا نشان امتیاز اسی سوال کو قرار دے کہ آیا وہ اس جدوجہد میں جان و مال کی بازی لگاتے ہیں یا باطل نظامات کے ماتحت جینے پر راضی رہتے ہیں؟ قرآن اور حدیث دونوں کو اٹھا کر دیکھ لیجیے، آپ کو صاف نظر آجائے گا ..... بشرطیکہ دل میں کوئی چور نہ ہو ..... کہ اسلام کا اصل موقف یہی ہے نہ کہ وہ جو آپ بیان فرما رہے ہیں۔
پھر جب حقیقت یہ ہے اور ہم اسلام کی حقیقت کو جان کر اس پر ایمان لائے ہیں تو یقیناً ہمارے وجود کو ہر غیر اسلامی حکومت کے لیے کھلا چیلنج ہونا ہی چاہیے۔ کوئی اس کو برداشت کرے یا نہ کرے، غیر مسلموں کے ساتھ تعاون و تعامل ہو سکے یا نہ ہو سکے، بہر حال اگر ہم اپنے ایمان میں صادق ہیں تو ہمارا کام یہی ہے کہ جہاں بھی خدا کا قانون شرعی نافذ نہیں ہے، وہاں ہم اس کے نفاذ کے لیے جدوجہد کریں۔ ہمارا مسلمان ہونا اس شرط کے ساتھ مشروط نہیں ہے کہ جو لوگ خدا سے پھرے ہوئے ہیں، وہ ہماری اس جدوجہد کو برداشت بھی کریں۔ اور غیر مسلموں کے ساتھ تعاون و تعامل بھی ہمارے لیے کوئی ایسی چیز نہیں ہے کہ جس نظامِ زندگی پر ہم ایمان لائے ہیں اس کے قیام کی جدوجہد صرف اس لیے چھوڑ دیں کہ غیر مسلمانوں کے ساتھ تعاون و تعامل اس صورت میں نہ ہو سکے گا۔ اسلام بے شک امن اور سلامتی کا حامی اور مؤید ہے، مگر اس کی نگاہ میں حقیقی امن اور سلامتی وہی ہے جو حدود اللہ کی اقامت سے حاصل ہوتی ہے۔ جس کسی نے امن اور سلامتی کا مطلب یہ سمجھا ہے کہ شیطانی نظامات کے زیر سایہ اطمینان کے ساتھ سارے کاروبار چلتے رہیں اور مسلمان کی نکسیر تک نہ پھوٹے، اس نے اسلام کا نقطۂ نظر بالکل نہیں سمجھا۔ اسے اچھی طرح معلوم ہو جانا چاہیے کہ اسلام ایسے امن اور ایسی سلامتی کا ہرگز حامی اور مؤید نہیں ہے۔ اُسے دوسروں کا قائم کردہ امن نہیں بلکہ اپنا قائم کردہ امن مطلوب ہے اور اسی میں وہ انسان کی سلامتی دیکھتا ہے۔
رہا لَا اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ۔ تو اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ اسلام اپنے عقائد زبردستی کسی سے نہیں منواتا، کیونکہ یہ بزور منوانے کی چیز نہیں ہے۔ اسی طرح وہ اپنی عبادات بھی، جن کا لازمی تعلق اس کے عقائد سے ہے، زبردستی کسی پر مسلط نہیں کرتا، کیونکہ ایمان صحیح کے بغیر یہ عبادات محض بے معنی ہیں۔ ان دونوں اُمور میں وہ ہر ایک کو آزادی دینے کے لیے تیار ہے، لیکن وہ اس بات کو گوارا کرنے کے لیے تیار نہیں ہے کہ قوانین تمدن، جن پر اسٹیٹ کا نظام قائم ہوتا ہے، خدا کے سوا کسی اور کے بنائے ہوئے ہوں اور خدا کی زمین پر اس کے باغی اس کو نافذ کریں، اور مسلمان اُن کے تابع ہو کر رہیں۔ اس معاملے میں بہر حال ایک فریق کو دوسرے فریق کے ’’مذہب‘‘ میں مداخلت کرنی ہی پڑے گی۔ اگر مسلمان ’’مذہبِ کفر‘‘ میں مداخلت نہ کریں گے تو کافر ’’مذہبِ اسلام‘‘ میں مداخلت کر کے رہیں گے اور اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ مسلمانوں کی زندگی کے بہت بڑے حصے پر مذہبِ کفر جاری ہو گا۔ لہٰذا بجائے اس کے کہ یہ مداخلت کفار کی طرف سے ہو، اسلام یہ تقاضا کرتا ہے کہ مسلمان آگے بڑھ کر نظامِ زندگی پر قبضہ کریں اور پھر جہاں تک مذہبی عقائد اور عبادات کا تعلق ہے، غیر مسلموں کے ساتھ <<لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ>> کے اصول پر عمل کریں۔
اب ہم اُن دلائل پر ایک نظر ڈالنا چاہتے ہیں جن کا سہارا جناب معترض نے لیا ہے اور جن پر اس طرزِ خیال کے لوگ بالعموم اعتماد کیا کرتے ہیں۔
ان کی پہلی دلیل یہ ہے کہ جب تم ’’فتنے‘‘ سے مراد کفر کا غلبہ اور کفار کی بالادستی لیتے ہو، اور جہاد و قتال کی غایت یہ قرار دیتے ہو کہ تمھاری اس تفسیر کے مطابق جس چیز کا نام ’’فتنہ‘‘ ہے وہ مٹ جائے اور اس کی جگہ ’’اللہ کا دین‘‘ قائم ہو، تو اس سے یہ ماننا لازم آتا ہے کہ اسلام دو بالکل متضاد حیثیتیں اختیار کر رہا ہے۔ ایک طرف کہتا ہے: <<لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ>>۔ دین میں کوئی جبر و اکراہ نہیں ہے۔ دوسری طرف غیر مسلموں کا یہ حق تسلیم کرنے سے انکار کر دیتا ہے کہ وہ اپنے نظریہ و مسلک کے مطابق حکومت کا نظام چلائیں، اور ان کے قوانین کا اجرا موقوف کر کے زبردستی اُن پر ’’اللہ کے دین‘‘ کو مسلط کرنا چاہتا ہے۔ ایک طرف <<لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ>> کہہ کر غیر مذاہب کے پیروؤں کو اپنے مذہب و عقائد پر قائم رہنے کی آزادی دیتا ہے۔ دوسری طرف اُن سے ٹھیک اسی بات پر لڑائی چھیڑتا ہے کہ وہ اپنے عقیدے اور اپنے اصولوں کے مطابق معاملاتِ دنیا کا انتظام کیوں کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اسلام ہرگز اس تضاد کا حامل نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا تمھاری تفسیر صحیح نہیں ہے۔
دوسری دلیل یہ ہے کہ اگر غیر اسلامی حکومت کا نفسِ وجود اسلام کی نگاہ میں فتنہ ہوتا اور اس کو مٹانے پر مسلمان مامور ہوتے تو کس طرح ممکن تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام مصر کی غیر اسلامی حکومت میں وزارت کا عہدہ طلب کرتے اور اپنی وزارت کے دَور میں مصر کے شاہی قوانین کے پابند رہ کر کام کرتے جیسا کہ آیت <<مَا كَانَ لِيَأْخُذَ اَخَاهُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِكِ>> (یوسف 76:12) سے ظاہر ہے۔
تیسری دلیل یہ ہے کہ اگر تمھاری اس تفسیر کو صحیح مان لیا جائے تو پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ اسلام دنیا میں ایک کبھی نہ ختم ہونے والی جنگ چھیڑتا ہے اور اپنے پیروؤں پر جارحانہ جنگ کا ایک ایسا فرض عائد کرتا ہے جس کی وجہ سے مسلمان دنیا میں کہیں امن کے ساتھ نہیں رہ سکتے۔ اس تفسیر کی رُو سے تو ہم پر لازم ہو جاتا ہے کہ نہ صرف تمام غیر مسلم حکومتوں کے خلاف بلکہ اُن مسلمان حکومتوں کے خلاف بھی عَلَمِ جہاد بلند کریں جن میں اسلامی حدود و قوانین نافذ نہیں ہیں۔ اور جب یہ ہمارا نظریہ اور یہ ہمارا دینی فریضہ ہو تو کس طرح ممکن ہے کہ غیر مسلم ہم کو اپنا پُر امن ہمسایہ سمجھ کر باطمینان ہمارے ساتھ معاملت کر سکیں اور غیر مسلم حکومتیں اپنے حدودِ عمل میں ہمارے وجود کو برداشت کر سکیں۔
(1) ان دلائل میں سے پہلی دلیل دراصل ایک غلط فہمی پر مبنی ہے۔ کسی شخص کا بجائے خود ایک عقیدے کو ماننا اور اپنی زندگی میں ایک خاص طریقے کی پیروی کرنا اور چیز ہے، اور اس کا اپنے نظریات کے مطابق اجتماعی زندگی کے لیے ایک نظام بنانا اور اس نظام کو بزور ایک ملک کے باشندوں پر جاری کر دینا [ واضح رہے کہ حکومت دراصل جبر و اکراہ (coercive) ہی کا دوسرا نام ہے۔ جو نظریات، اصول اور قوانین کسی حکومت کی اساس قرار پائیں گے وہ ظاہر ہے کہ اُن سب لوگوں پر بزور ہی نافذ کیے جائیں گے جو اس حکومت کے دائرے میں رہتے ہیں۔]؎ بالکل ایک دوسری چیز۔ معترضین ان دونوں چیزوں کو ایک سمجھتے ہیں اور ان کے فرق کو نظر انداز کر کے <<لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ>> اور <<لَكُمْ دِيْنُكُمْ وَلِيَ دِيْنِ>> وغیرہ آیات کو ان کے مجموعہ پر چسپاں کر دیتے ہیں۔ حالانکہ ان آیات کا تعلق صرف امرِ اوّل سے ہے۔ بلاشبہ ہم کسی غیر مسلم کو مجبور نہ کریں گے کہ وہ اپنا عقیدہ چھوڑ کر اسلامی عقیدہ قبول کرے یا اپنی مذہبی عبادات کو ترک کر کے نماز، روزہ کی پابندی اختیار کر لے، لیکن ہم اس کا یہ حق کسی طرح تسلیم نہیں کر سکتے کہ وہ اخلاق، تعلیم، تمدن، معاشرت، معیشت، قانون اور سیاست وغیرہ اجتماعی اُمور کے متعلق اپنے نظریات کو حاکمانہ قوت کے ساتھ بجبر ہم پر مسلط کر دے۔ دوسروں کو ان کے مسلک پر چلنے دینا، بے شک رواداری ہے، مگر یہ کوئی رواداری نہیں ہے کہ اپنے مسلک کے خلاف ہم اپنے اوپر دوسروں کے مسلک کا تسلط برداشت کر لیں۔ ملک کی حکومت جس فلسفۂ زندگی پر مبنی ہوگی لامحالہ تمام قوانین اور پوری انتظامی پالیسی اور سارا کاروبار معیشت اسی فلسفے کے نظریات پر چلے گا اور ایسی حکومت کے تحت رہتے ہوئے یہ کسی طرح ممکن ہی نہ ہوگا کہ ہم اپنی زندگی کا نظام اپنے مذہب و مسلک کے اصولوں پر چلا سکیں۔ ہم خواہ راضی ہوں یا نہ ہوں، بہرحال مذہب مخالف کے پیرو اپنے سیاسی غلبے کی بدولت اپنے نظریات کو زبردستی ہماری پوری زندگی میں نافذ کر کے چھوڑیں گے۔ اس معاملے میں رواداری برتنے کے معنی یہ ہیں کہ اگر وہ زنا کو حلال سمجھتے ہوں اور لوگوں کو اس کی عام اجازت دیتے ہوں تو ان کی حکومت میں بے بس رعیت کی حیثیت سے رہتے ہوئے خود ہماری سوسائٹی میں زنا پھیلتی چلی جائے اور ہم اسے گوارا کریں۔ اگر وہ سود کو جائز سمجھتے ہوں اور خود ان کی حکومت سودی لین دین کرتی ہو تو ملک کا انتظام ان کے ہاتھ میں ہونے کی وجہ سے ہمارا کوئی بڑے سے بڑا زاہد و متقی تک سود کے غبار سے نہ بچ سکے اور ہم ایک دیا سلائی اور روٹی کا ایک ٹکڑا بھی نہ خرید سکیں، جب تک کہ اس کی قیمت میں سے سود کا ایک حصہ بالواسطہ ٹیکسوں کی شکل میں ہماری جیب سے نہ نکل جائے۔ اگر وہ دہریت و الحاد کے نظریات پر اعتقاد رکھتے ہوں تو ملک کی عمومی تعلیم کا پورا نظام انھی نظریات اور اسی ذہنیت اور اسی ملحدانہ اخلاق پر تعمیر ہو جائے اور باشندگانِ ملک کے لیے ترقی و خوشحالی کے تمام دروازے اس ایک جہنم کے دروازے کے سوا بند ہو جائیں اور ہمارا کوئی بڑے سے بڑا خدا پرست بھی اپنی نسل کو اس الحاد اور ملحدانہ اخلاق کے اثرات سے نہ بچا سکے۔ اگر وہ خدا کے قوانین کو منسوخ کر کے خود قوانین بنائیں اور ملک کا نظام تمدن اپنے خود ساختہ قوانین پر قائم کریں تو ہماری معاشی و معاشرتی اور تمدنی زندگی کا ایک بڑا حصہ مجبوراً اس قانون کی پابندی سے آزاد ہو جائے جس پر ہم ایمان رکھتے ہیں اور ا س قانون پر چلنے لگے جس پر ہمارا ایمان نہیں ہے۔ کوئی ہمیں بتائے کہ آخر یہ رواداری کی کون سی قسم ہے؟ لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ کا یہ مطلب آخر کس عقل کی رُو سے صحیح ہوسکتا ہے کہ دوسروں کی طرف سے دین میں جو اکراہ ہو، اُسے ہم برداشت کرلیں؟
یہ ظاہر ہے کہ اجتماعی زندگی کے نظم کو قائم کرنے کے لیے بہرحال ایک قوتِ قاہرہ (coercive power) کی ضرورت ہے جسے ”اسٹیٹ“ یا ریاست کہتے ہیں ...... اس ضرورت کا انکار انارکی پر اعتقاد رکھنے والوں کے سوا آج تک کسی نے نہیں کیا۔ یا پھر اشتراکی تصوف میں ایک ایسے مقام کا تصور کیا گیا ہے جہاں پہنچ کر انسان کی حیاتِ اجتماعی اسٹیٹ کی ضرورت سے بے نیاز ہوجائے گی، لیکن یہ صرف عالمِ خیال کی باتیں ہیں جن کی تائید میں کوئی تجربہ یا مشاہدہ پیش نہیں کیا جاسکتا۔ عملی زندگی کا تجربہ اور انسانی فطرت کا علم یہی بتاتا ہے کہ تمدّن کا قیام ایک قوتِ قاہرہ کا یقیناً محتاج ہے ...... پھر یہ بھی ظاہر ہے کہ یہ قوت، جو اپنے قہر و غلبے سے نظامِ تمدّن کو قائم رکھتی ہے، بجائے خود کسی نہ کسی نظریے اور کسی نہ کسی اجتماعی مسلک کی قائل ہوتی ہے۔ اسی نظریہ و مسلک کے مطابق وہ اپنے لیے ایک لائحہ عمل بناتی ہے۔ اسی لائحہ عمل کو وہ قاہرانہ طاقت کے ساتھ اجتماعی زندگی میں نافذ کرتی ہے۔ اور تمدنی شکل کے بننے اور بگڑنے میں اس قہر کی نوعیت اور اس لائحہ عمل کی اصولی و تفصیلی صورت کا بڑا دخل ہوتا ہے۔ صرف اجتماعی زندگی ہی نہیں، انفرادی زندگی بھی بڑی حد تک طوعاً و کرہاً اُس سانچے میں ڈھل کر ہی رہتی ہے جسے اسٹیٹ اپنے قہر و تسلط سے بنا دیتی ہے۔ جو لوگ کسی اسٹیٹ کے دائرے میں رہتے ہوں، وہ چاہے اُس کے بنیادی نظریے اور اس کے تفصیلی لائحہ عمل پر ایمان نہ رکھتے ہوں اور کسی طرح اس پر راضی نہ ہوں، لیکن انھیں چار و ناچار اپنے عقیدہ و مسلک کے ۹۰ فی صد حصے سے دست بردار ہو کر اسٹیٹ کے عقیدہ و مسلک پر چلنا پڑتا ہے اور باقی ۱۰ فی صدی میں بھی ان کے عقیدہ و مسلک کی گرفت روز بروز ڈھیلی ہی ہوتی جاتی ہے۔
اسٹیٹ کی اس نوعیت کو ملحوظ رکھنے اور یہ سمجھ لینے کے بعد کہ اجتماعی زندگی کے لیے اسٹیٹ بہرحال ہے ناگزیر، ایک صاحبِ فکر و نظر آدمی کے لیے اس حقیقت کا ادراک کچھ مشکل نہیں رہتا کہ جو گروہ آج کل کے محدود معنوں میں محض ایک ”مذہب“ کا معتقد نہ ہو بلکہ ایک ہمہ گیر نظامِ زندگی، یعنی ”دین“ پر اعتقاد رکھتا ہو، وہ اگر اپنے اعتقاد میں سچا ہے اور اپنے اعتقاد کے خلاف زندگی گزارنا نہیں چاہتا تو اس کے لیے اس کے سوا چارہ نہیں ہے کہ آگے بڑھ کر خود اس قوتِ قاہرہ پر قبضہ کرنے کی کوشش کرے جو نظمِ اجتماعی کی صورت گری کرتی ہے اور اپنے زور سے اس کو قائم رکھتی ہے۔ اگر وہ ایسا نہ کرے گا تو دوسرے اس قوت پر قبضہ کریں گے اور پھر یہ گروہ مجبور ہوگا کہ اجتماعی و انفرادی زندگی کے کم از کم ۹۰ فیصد اُمور میں اپنے ”دین“ کے بجائے اُن کے ”دین“ پر چلے۔ متمدن زندگی میں یہ ”اکراہ“ لامحالہ ہم میں سے کسی ایک کو کرنا ہی پڑے گا۔ اگر ہم نہ کریں گے تو کفار کریں گے، لہٰذا بجائے اس کے کہ کفار اس دائرے میں ہم پر اکراہ کریں اور ہمیں جہنم کی طرف گھسیٹ کر لے جائیں، یہ زیادہ بہتر ہے کہ ہم ان پر اکراہ کریں اور انھیں اس مقام کے قریب لاکھڑا کریں جہاں اگر وہ چاہیں تو ان کو بآسانی جنت کا راستہ مل سکتا ہے۔
یہ اس معاملے کا ایک پہلو ہے اور اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ زمین کا مالک اللہ ہے۔ اس کی زمین پر رہنے اور اس کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے اور اس کی ملکیت میں تصرف کرنے کا حق صرف اس کو پہنچتا ہے جو اس کا مطیع فرمان ہو اور اس کے قانونِ فطری و شرعی کا اتباع کرے۔ جو ایسا نہیں کرتا، وہ ظالم ہے، غاصب ہے، باغی ہے۔ اس کی یہ نافرمانی صرف خلافِ حق ہی نہیں، بلکہ زمین کے انتظام میں فساد اور اہلِ زمین کے لیے فتنے کی موجب بھی ہے۔ لہٰذا حق تو یہ ہے کہ جو لوگ خدا سے پھرے ہوئے ہوں اور اُس کے قانونِ فطری و شرعی کی پیروی سے منحرف ہیں، اُن کو زمین میں جینے کا حق بھی نہ ہونا چاہیے، لیکن یہ اللہ کی بہت بڑی عنایت اور اس کا انتہائی حلم ہے کہ وہ ان کو نہ صرف جینے کی مہلت دیتا ہے، بلکہ ان کو ان کے کفر، شرک، دہریت اور الحاد پر اس حد تک قائم رہنے کا اختیار بھی دیتا ہے جہاں تک ان کی بغاوت دوسرے بندگانِ خدا کے لیے فتنہ و فساد کی موجب نہ ہوسکے۔ البتہ وہ اس بات کو ہرگز جائز نہیں رکھتا کہ یہ لوگ اس کے قانونِ شرعی کو منسوخ کر کے اپنے خود ساختہ قوانین پر اس کی زمین کا نظم و نسق چلا سکیں اور اس کی زمین کو فساد سے بھر دیں، اس لیے وہ اپنے قانون شرعی پر ایمان لانے والوں کو حکم دیتا ہے کہ کفار کو دینِ حق پر ایمان لانے کے لیے تو مجبور نہ کرو، لیکن غلبۂ کفر و کفار کے فتنے کو پوری طاقت سے مٹانے کی کوشش کرو یہاں تک کہ زمین کا انتظام عملاً میرے ”دین“ پر قائم ہو جائے اور جو میرے دین کو نہیں مانتے وہ ”کابر“ نہیں بلکہ ”صاغر“ بن کر رہیں۔ <<حَتّٰى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَّهُمْ صٰغِرُوْنَ>> (التوبہ 9:29)
(۲) ان حقائق کو ذہن نشین کر لینے کے بعد دوسری دلیل کا زور آپ سے آپ ختم ہو جاتا ہے۔ اگر حضرت یوسف علیہ السلام فی الواقع خدا کے فرستادہ پیغمبر تھے تو یقیناً ان کی زندگی کا مشن اُس ایک مشن کے سوا کچھ اور نہ ہو سکتا تھا جو ہر رسول برحق کا مشن رہا ہے، یعنی خدا کے دین کو ہر دوسرے دین پر غالب کر دینا، یہ ایک اصولی حقیقت ہے جسے تمام پیغمبروں کی سیرتوں کے مختلف واقعات کی تعبیر وتفسیر میں ہم کو ایک قاعدۂ کلیہ کے طور پر ملحوظ رکھنا ہو گا۔ ورنہ اگر ہم یہ مان لیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام اپنی حکومت میں ملک پر خدا کے دین کی جگہ بادشاہ کا دین نافذ کرتے تھے تب تو پھر یوسفِ صدیق اور سر سکندر وفضلِ الحق [ مضمون لکھتے وقت یہ حضرات پنجاب اور بنگال کے وزیر اعظم تھے۔ اب ان کی جگہ کسی غیر اسلامی حکومت کے مسلمان وزیر کو فرض کیا جاسکتا ہے۔] میں کوئی اصولی فرق باقی نہیں رہتا۔ افسوس ہے کہ اس معاملے میں لوگ حقیقت سے بہت دور چلے گئے ۔ انھوں نے دراصل قصۂ یوسف علیہ السلام کو نہیں سمجھا ہے۔ وہ گمان کرتے ہیں کہ یوسف علیہ السلام نے اپنے وقت کے بادشاہ سے جو کہا تھا کہ <<اجْعَلْنِیْ عَلٰی خَزَآئِنِ الْاَرْضِ>> (یوسف 55:12) تو یہ ان کی طرف سے محض ملازمت کی ایک درخواست تھی جو دربارِ شاہی میں قبول ہو گئی اور ان کو وہ منصب مل گیا جو اکبر کے ہاں ٹوڈرمل کا منصب تھا۔ حالانکہ وہاں صورتِ حال کچھ اور ہی تھی۔
سیدنا یوسف علیہ السلام نے ابتدائے دینِ حق کی اقامت کے لیے وہی راستہ اختیار فرمایا تھا جو انبیاء علیہم السلام اختیار فرماتے رہے ہیں، یعنی پہلے دعوتِ عام، پھر جو لوگ اس دعوت کو قبول کریں اُن کی تربیت وتنظیم، پھر انھیں ساتھ لے کر اقامتِ دین کے لیے مجاہدہ۔ چنانچہ انھوں نے اپنی اس دعوت کا سلسلہ جیل ہی میں شروع کر دیا تھا جس کے مواعظ میں سے ایک بے نظیر وعظ سورۂ یوسف کے پانچویں رکوع میں نقل کیا گیا ہے، لیکن آگے چل کر ا ن کے سامنے یکا یک ایک ایسا موقع آگیا جس سے وہ اپنے مقصود تک مختصر راستے سے پہنچ سکتے تھے۔ انھوں نے دیکھا کہ عزیز مصر کی بیوی اور اس کی سہیلیوں کے معاملے میں جس پاکیزہ اور مضبوط سیرت کا اظہار اُن سے ہوا تھا، اور پھر تعبیر خواب کے معاملے میں جس بصیرت کا ثبوت انھوں نے دیا تھا، اس کی وجہ سے بادشاہِ مصر ان کا اس حد تک معتقد ہو چکا تھا کہ اگر وہ اس وقت حکمرانی کے کامل اختیارات اس سے طلب کریں تو وہ بلا تامل پیش کر دے گا، اس لیے انھوں نے تحریک عمومی کی راہ سے اپنا مشن پورا کرنے کے بجائے اقتدارِ حکومت پر فوراً قبضہ کر کے دینِ حق قائم کر دینے کو زیادہ قریب کا راستہ پایا اور بادشاہ سے مطالبہ کر دیا کہ <<اجْعَلْنِيْ عَلٰى خَزَآئِنِ الْاَرْضِ>> (یوسف 55:12) ”زمین مصر کے تمام وسائل و ذرائع میرے اختیار میں دے۔ یہ محض وزیر مالیات کے منصب کا مطالبہ نہیں تھا، جیسا کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں، بلکہ یہ ڈکٹیٹر شپ کا مطالبہ تھا اور اس کے نتیجے میں سیدنا یوسف علیہ السلام کو جو پوزیشن حاصل ہوئی وہ قریب قریب وہی پوزیشن تھی جو اس وقت اٹلی میں مسولینی کو حاصل ہے،[ مضمون لکھتے وقت مسولینی زندہ تھا اور اٹلی کا مختار مطلق بنا ہوا تھا۔] اس فرق کے ساتھ کہ اٹلی کا بادشاہ مسولینی کا معتقد نہیں بلکہ محض اس کی پارٹی کے اثر سے مجبور ہے، اور مصر میں بادشاہ خود حضرت یوسف علیہ السلام کا مرید ہو چکا تھا [ بلکہ مشہور مفسر امام مجاہد تو کہتے ہیں کہ وہ آپ کے ہاتھ پر اسلام بھی قبول کر چکا تھا۔ (ابن جریر)]۔
حضرت یوسف علیہ السلام کے اقتدار کی شہادت اللہ تعالیٰ خود دیتا ہے کہ <<كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوْسُفَ فِي الْاَرْضِ يَتَبَوَّاُ مِنْهَا حَيْثُ يَشَآءُ>> (یوسف 56:12) اس طرح ہم نے یوسف کو اس سرزمین میں اقتدار بخشا، وہ اس کے جس حصے کو چاہتا اپنی جگہ بنا سکتا تھا۔ یعنی پورا ملک اس کے قابو میں تھا۔
پھر اس کی مزید شہادت ہمیں سورۂ مائدہ میں ملتی ہے جہاں حضرت موسیٰ اپنی قوم سے فرماتے ہیں: <<يٰقَوْمِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ اِذْ جَعَلَ فِيْكُمْ اَنْۢبِيَآءَ وَ جَعَلَكُمْ مُّلُوْكًا وَّ اٰتٰىكُمْ مَّا لَمْ يُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ>> (المائدہ 20:5) اے میری قوم کے لوگو! یاد کرو اللہ کے اس احسان کو جو اس نے تم پر کیا کہ تم میں انبیا پیدا کیے تھے، تم کو حکمران قوم بنایا تھا اور تمھیں وہ کچھ دیا تھا جو دنیا میں کسی کو نہیں دیا گیا۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو مصر میں جو اقتدار حاصل ہوا تھا اس کی وجہ سے وہاں آخر کار مکمل انقلاب رونما ہوا، فراعنہ کے بجائے بنی اسرائیل حکمران ہوئے اور ان کو وہ عروج نصیب ہوا جو ان کی ہمسر قوموں میں کسی کو حاصل نہ ہوا۔
پھر جو مذہبی اثر حضرت یوسف علیہ السلام نے مصر میں چھوڑا، اس کی شہادت ہم کو سورۂ مؤمن میں ملتی ہے۔ وہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہم عصر فرعون کو خطاب کر کے قبطی قوم کا ایک صاحب ایمان شخص کہتا ہے: << وَلَقَدْ جَآئَكُمْ يُوْسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَيِّنٰتِ فَمَا زِلْتُمْ فِيْ شَكٍّ مِّمَّا جَآئَكُمْ بِهٖ حَتّٰى اِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَنْ يَّبْعَثَ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِهٖ رَسُوْلًا ط >> (المؤمن 34:40) تمھارے پاس یوسف روشن نشانیاں لے کر آئے تھے، مگر پہلے تو تم اس چیز کی طرف سے شک میں رہے جسے وہ لائے تھے اور جب وہ انتقال فرما گئے تو تم نے کہا کہ اب اللہ کوئی رسول نہ بھیجے گا۔ یعنی تم نے کہا کہ اس پائے کا شخص اب نہیں آ سکتا۔
حضرت یوسف علیہ السلام کے معاملے میں یہ حقیقت جاننے کے بعد کون اس سے یہ استدلال کرنے کی جرأت کر سکتا ہے کہ غیر اسلامی نظام حکومت کا پرزہ بننا برحق ہے کیونکہ ایک نبی برحق ایسا کرچکا ہے۔ رہی آیت << مَا كَانَ لِيَاْخُذَ اَخَاهُ فِيْ دِيْنِ الْمَلِكِ >> (یوسف 76:12) جس سے استدلال کیا جاتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام فرعونی قوانین کی پابندی کرتے تھے، تو اگرچہ اس آیت کے مفہوم و معنی میں بہت کچھ کلام کی گنجائش ہے، لیکن اس کا جو مفہوم بیان کیا جاتا ہے۔ اگر اسی کو تسلیم کر لیا جائے تب بھی زیادہ سے زیادہ جو کچھ اس سے ثابت ہوتا ہے وہ صرف اس قدر ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے دورِ حکومت میں جس موقع پر یہ معاملہ پیش آیا (اور قرائن سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ ابتدائی دور ہی کا واقعہ تھا کیونکہ آنجناب کے عزیز مصر ہونے کے چند ہی سال بعد وہ مشہور ہفت سالہ قحط شروع ہو گیا جس میں آپ کے بھائیوں کو غلہ حاصل کرنے کے لیے مصر آنا پڑا تھا) اس وقت تک مصر میں فوجداری قانون وہی رائج تھا جو پہلے سے چلا آ رہا تھا۔ ظاہر ہے کہ ایک ملک کے نظام تمدن کو آنِ واحد میں نہیں بدلا جاسکتا۔ یہ کام بہر حال تدریج ہی کے ساتھ کیا جاسکتا ہے۔ خود نبیؐ کے زمانے میں بھی عرب کے نظامِ تمدن کو بدلتے بدلتے دس سال لگ گئے تھے۔ وراثت کا قانون ۳ھ یا ۴ھ میں بدلا گیا۔ نکاح و طلاق کے قوانین ہجرت کے بعد پانچ چھ سال میں مکمل طور پر نافذ کیے گئے۔ فوجداری قوانین کی تکمیل میں پورے آٹھ سال لگ گئے۔ ملک کا معاشی نظام بتدریج ۹ سال میں بدلا گیا۔ شراب کا قطعی انسداد ۸ھ میں ہوا اور سود کی کلی ممانعت ۹ھ میں کی گئی۔ اسی طرح اگر حضرت یوسف علیہ السلام نے بھی ملک کے قوانین بدلنے میں تدریج سے کام لیا ہو اور ایک خاص وقت تک ان کے زمانہ حکومت میں سابق قوانین جاری رہے ہوں تو کیا اس سے یہ استدلال کیا جاسکتا ہے کہ ایک پیغمبر، خدا کے سوا دوسروں کے جاہلی قوانین کو جائز سمجھ کر ان کی پابندی کرتا تھا۔
(۳) رہی تیسری دلیل تو اسے دراصل دلیل کے بجائے عذر کہنا چاہیے۔ اس عذر کا جواب ہم پہلے دے چکے ہیں۔ لہٰذا یہاں صرف ایک حدیث سنانے پر اکتفا کرتے ہیں، جسے ابو داؤد نے نقل کیا ہے کہ نبیؐ نے فرمایا:
<<والجهاد ماض مذبعثنی الله الى ان يقاتل اخر هذه الامة الدجال يبطله جور جائر ولا عدل عادل۔>>
اور جہاد میری بعثت کے وقت سے اس وقت تک جاری رہنا چاہیے جبکہ اس امت کا آخری گروہ دجال سے جنگ کرے گا، نہ کسی ظالم کا ظلم اسے باطل کر سکتا ہے اور نہ کسی عادل کا عدل۔
یعنی جہاد کو نہ اس عذر کی بنا پر بند کیا جاسکتا ہے کہ اس وقت بڑے جبابرہ ہم پر مسلط ہیں۔ نہ اس بات کو جہاد نہ کرنے کے لیے بہانہ بنایا جاسکتا ہے کہ حکومت اگرچہ کفار کی ہے مگر ہم کو امن نصیب ہے، اور ہمارے ساتھ انصاف ہو رہا ہے۔ اور نہ مسلمانوں کے لیے یہ جائز ہے کہ اگر ان کے اپنے ملک میں عدل کا دور دورہ ہو تو وہ مطمئن ہو کر بیٹھ رہیں اور باہر کی دنیا میں جو ظلم و فساد برپا ہو اس کی طرف سے آنکھیں بند کر لیں۔
ترجمان القرآن
شعبان تا شوال ۱۳۶۱ھ ۔ ستمبر تا نومبر ۱۹۴۲ء