قربانی کی شرعی حیثیت
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ایک مبسوط مضمون ہے جس میں مولانا مودودی قربانی کی شرعی حیثیت پر جامع بحث کرتے ہیں۔ وہ سب سے پہلے قرآن مجید کی ان آیات کا جائزہ لیتے ہیں جو قربانی کو صرف حج کے مناسک تک محدود نہیں رکھتیں، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قولی و عملی ارشادات سے اس کی مشروعیت ثابت کرتے ہیں۔
اس کے بعد وہ فقہائے امت کی آراء کا خلاصہ پیش کرتے ہیں کہ اگرچہ قربانی کے واجب یا سنتِ مؤکدہ ہونے میں اختلاف ہے، مگر اس کے مشروع اور سنتِ متوارثہ ہونے پر تمام ائمہ متفق ہیں، اور امت کے متواتر عملی تسلسل کو اس کا سب سے مضبوط ثبوت قرار دیتے ہیں۔ آخر میں وہ اس معاشی اعتراض کا جواب بھی دیتے ہیں کہ قربانی پر خرچ ہونے والی رقم کو دیگر قومی مقاصد پر صرف کرنا زیادہ بہتر ہوگا، اور اسے ایک خالص مادہ پرستانہ ذہنیت کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔
معاشی اعتراض
دراصل اس وقت قربانی کی جو مخالفت کی جا رہی ہے، اس کی بنیاد یہ نہیں ہے کہ کسی نے علمی طریقے پر قرآن وحدیث کا مطالعہ کیا ہو اور اس میں قربانی کا حکم نہ پایا جاتا ہو بلکہ اس مخالفت کی حقیقی بنیاد صرف یہ ہے کہ اس مادّہ پرستی کے دَور میں لوگوں کے دل و دماغ پر معاشی مفاد کی اہمیت بُری طرح مسلط ہو گئی ہے اور معاشی قدر کے سوا کسی چیز کی کوئی دوسری قدر ان کی نگاہ میں باقی نہیں رہی ہے۔ وہ حساب لگا کر دیکھتے ہیں کہ ہر سال کتنے لاکھ یا کتنے کروڑ مسلمان قربانی کرتے ہیں اور اس پر اوسطاً فی کس کتنا روپیہ خرچ آتا ہے۔ اس حساب سے ان کے سامنے قربانی کے مجموعی خرچ کی ایک بہت بڑی رقم آتی ہے اور وہ چیخ اُٹھتے ہیں کہ اتنا روپیہ محض جانوروں کی قربانی پر ضائع کیا جا رہا ہے، حالانکہ اگر یہی رقم قومی اداروں یا معاشی منصوبوں پر صرف کی جاتی تو اس سے بے شمار فائدے حاصل ہو سکتے تھے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ یہ ایک سراسر غلط ذہنیت ہے جو غیر اسلامی اندازِ فکر سے ہمارے اندر پرورش پا رہی ہے۔ اگر اس کو اسی طرح نشوونما پانے دیا گیا تو کل ٹھیک اسی طریقے سے استدلال کرتے ہوئے کہا جائے گا کہ ہر سال اتنے لاکھ مسلمان اوسطاً اتنا روپیہ سفرِ حج پر صرف کر دیتے ہیں جو مجموعی طور پر اتنے کروڑ روپیہ بنتا ہے، محض چند مقامات کی زیارت پر اتنی خطیر رقم سالانہ صرف کر دینے کے بجائے کیوں نہ اسے بھی قومی اداروں اور معاشی منصوبوں اور ملکی دفاع پر خرچ کیا جائے۔ یہ محض ایک فرضی قیاس ہی نہیں ہے بلکہ فی الواقع اسی ذہنیت کے زیرِ اثر ترکیہ کی لادینی حکومت نے ۲۵ سال تک حج بند کیے رکھا ہے۔ پھر کوئی دوسرا شخص حساب لگائے کہ ہر روز اتنے کروڑ مسلمان پانچ وقت نماز پڑھتے ہیں اور اس میں اوسطاً فی کس اتنا وقت صرف ہوتا ہے جس کا مجموعہ اتنے لاکھ گھنٹوں تک جا پہنچا ہے۔ اس وقت کو اگر کسی مفید معاشی کام میں استعمال کیا جاتا تو اس سے اتنی معاشی دولت پیدا ہو سکتی تھی، لیکن بُرا ہو اُن مُلّاؤں کا کہ انھوں نے مسلمانوں کو نماز میں لگا کر صدیوں سے انھیں اس قدر خسارے میں مبتلا کر رکھا ہے۔ یہ بھی کوئی فرضی قیاس نہیں ہے بلکہ فی الواقع سوویت روس میں بہت سے ناصحین مشفقین نے وہاں کے مسلمانوں کو نماز کے معاشی نقصانات اسی منطق سے سمجھائے ہیں ...... پھر یہی منطق روزے کے خلاف بھی بڑی کامیابی کے ساتھ استعمال کی جاسکتی ہے۔ اور اس کا آخری نتیجہ یہ ہے کہ مسلمان نری معیشت کی میزان پر تول تول کر اسلام کی ایک ایک چیز کو دیکھتا جائے گا اور ہر اس چیز کو ”ملاؤں کی ایجاد“ قرار دے کر ساقط کرتا چلا جائے گا، جو اس میزان میں اس کو بے وزن نظر آئے گی۔ کیا فی الواقع اب مسلمانوں کے پاس اپنے دین کے احکام کو جانچنے کے لیے صرف ایک یہی معیار رہ گیا ہے؟
”اخبار قاصد“
۲۲ ستمبر ۱۹۵۰ء