مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

قربانی کی شرعی حیثیت

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ایک مبسوط مضمون ہے جس میں مولانا مودودی قربانی کی شرعی حیثیت پر جامع بحث کرتے ہیں۔ وہ سب سے پہلے قرآن مجید کی ان آیات کا جائزہ لیتے ہیں جو قربانی کو صرف حج کے مناسک تک محدود نہیں رکھتیں، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قولی و عملی ارشادات سے اس کی مشروعیت ثابت کرتے ہیں۔

اس کے بعد وہ فقہائے امت کی آراء کا خلاصہ پیش کرتے ہیں کہ اگرچہ قربانی کے واجب یا سنتِ مؤکدہ ہونے میں اختلاف ہے، مگر اس کے مشروع اور سنتِ متوارثہ ہونے پر تمام ائمہ متفق ہیں، اور امت کے متواتر عملی تسلسل کو اس کا سب سے مضبوط ثبوت قرار دیتے ہیں۔ آخر میں وہ اس معاشی اعتراض کا جواب بھی دیتے ہیں کہ قربانی پر خرچ ہونے والی رقم کو دیگر قومی مقاصد پر صرف کرنا زیادہ بہتر ہوگا، اور اسے ایک خالص مادہ پرستانہ ذہنیت کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔

اُمت کا متواتر عمل

سب سے بڑا ثبوت اس کے سنت اور مشروع ہونے کا یہ ہے کہ نبیؐ کے عہدِ مبارک سے لے کر آج تک مسلمانوں کی ہر نسل کے بعد دوسری نسل اس پر عمل کرتی چلی آ رہی ہے۔ دو چار یا دس پانچ آدمیوں نے نہیں بلکہ ہر پشت کے لاکھوں کروڑوں مسلمانوں نے اپنے سے پہلی پشت کے لاکھوں کروڑوں مسلمانوں سے اس طریقے کو اخذ کیا ہے اور اپنے سے بعد والی پشت کے لاکھوں کروڑوں مسلمانوں تک اسے پہنچایا ہے۔ اگر تاریخ اسلام کے کسی مرحلے پر کسی نے اس کو ایجاد کر کے دین میں شامل کرنے کی کوشش کی ہوتی تو کس طرح ممکن تھا کہ تمام مسلمان بالاتفاق اس کو قبول کر لیتے اور کہیں کوئی بھی اس کے خلاف لب کشائی نہ کرتا؟ اور کس طرح یہ بات تاریخ میں چھپی رہ سکتی تھی کہ اس طریقے کو کب کس نے کہاں ایجاد کیا؟ آخر یہ اُمت ساری کی ساری منافقوں ہی پر تو مشتمل نہیں رہی ہے کہ حدیثوں پر حدیثیں قربانی کی مشروعیت پر گھڑ دی جائیں اور ایک نیا طریقہ ایجاد کر کے رسولِ خدا کی طرف منسوب کر دیا جائے اور پوری اُمت آنکھیں بند کر کے اسے قبول کر بیٹھے۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ ہماری پچھلی نسلیں ایسی ہی منافق تھیں تو معاملہ قربانی تک کب محدود رہتا ہے۔ پھر تو نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ بلکہ خود رسالتِ محمدیہؐ اور قرآن تک سب ہی کچھ مشکوک و مشتبہ ہو کر رہ جاتا ہے۔ کیونکہ جس تواتر کے ساتھ پچھلی نسلوں سے ہم کو قربانی پہنچی ہے، اُسی تواتر کے ساتھ اُنھی نسلوں سے یہ سب چیزیں بھی پہنچی ہیں۔ اگر ان کا متواتر عمل اس معاملے میں مشکوک ہے تو آخر دوسرا کون سا ایسا معاملہ رہ جاتا ہے جس میں اسے شک سے بالا تر ٹھہرایا جا سکے۔

افسوس ہے کہ موجودہ زمانے میں بعض لوگ نہ خدا کا خوف رکھتے ہیں نہ خلق کی شرم۔ علم اور سمجھ بوجھ کے بغیر جو شخص جس دینی مسئلے پر چاہتا ہے بے تکلف تیشہ چلا دیتا ہے، پھر اسے کچھ پروا نہیں ہوتی کہ اس ضرب سے صرف اسی مسئلے کی جڑ کٹتی ہے یا ساتھ ہی ساتھ دین کی جڑ بھی کٹ جاتی ہے۔