مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

قربانی کی شرعی حیثیت

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ایک مبسوط مضمون ہے جس میں مولانا مودودی قربانی کی شرعی حیثیت پر جامع بحث کرتے ہیں۔ وہ سب سے پہلے قرآن مجید کی ان آیات کا جائزہ لیتے ہیں جو قربانی کو صرف حج کے مناسک تک محدود نہیں رکھتیں، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قولی و عملی ارشادات سے اس کی مشروعیت ثابت کرتے ہیں۔

اس کے بعد وہ فقہائے امت کی آراء کا خلاصہ پیش کرتے ہیں کہ اگرچہ قربانی کے واجب یا سنتِ مؤکدہ ہونے میں اختلاف ہے، مگر اس کے مشروع اور سنتِ متوارثہ ہونے پر تمام ائمہ متفق ہیں، اور امت کے متواتر عملی تسلسل کو اس کا سب سے مضبوط ثبوت قرار دیتے ہیں۔ آخر میں وہ اس معاشی اعتراض کا جواب بھی دیتے ہیں کہ قربانی پر خرچ ہونے والی رقم کو دیگر قومی مقاصد پر صرف کرنا زیادہ بہتر ہوگا، اور اسے ایک خالص مادہ پرستانہ ذہنیت کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔

فقہائے اُمت کی آراء

قرآن اور حدیث کے ان دلائل کی بنا پر فقہائے اُمت نے بقرعید کی قربانی کے متعلق بالاتفاق یہ رائے دی ہے کہ یہ ایک مشروع فعل ہے اور سنن اسلام میں سے ہے۔ اختلاف اگر ہے تو اس میں کہ یہ واجب ہے یا نہیں، مگر اس کا مشروع اور سنت ہونا متفق علیہ ہے۔ علامہ ابن حجر عسقلانی فتح الباری میں مذاہب فقہا کا خلاصہ اس طرح بیان کرتے ہیں :

اس امر میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ بقرعید کی قربانی شرائع دین میں سے ہے۔ شافعیوں اور جمہور کے نزدیک یہ سنتِ مؤکدہ ہے بطریق کفایت ۔ اور شافعیہ میں ایک دوسری رائے یہ ہے کہ فرضِ کفایہ ہے ۔ امام ابو حنیفہ کی رائے یہ ہے کہ مقیم اور خوش حال آدمی پر واجب ہے۔ امام مالک کی رائے بھی ایک روایت کی رُو سے یہی ہے، مگر اُنھوں نے مقیم کی قید نہیں لگائی ہے۔ اوزاعی ، ربیعہ اور لیث کی بھی یہی رائے ہے۔ حنفیوں میں ابو یوسف اور مالکیوں میں اشہب نے جمہور کی رائے سے اتفاق کیا ہے۔ امام احمد بن حنبل کی رائے یہ ہے کہ قدرت کے باوجود قربانی نہ کرنا مکروہ ہے ۔ ان کا دوسرا قول یہ ہے کہ قربانی کرنا واجب ہے ۔ امام محمد کہتے ہیں کہ قربانی ایک ایسی سنت ہے جسے چھوڑ دینے کی اجازت نہیں ہے۔ (ج ۱۰ ص ۲)

اس سے معلوم ہوا کہ جہاں تک قربانی کے سنت اور مشروع ہونے کا تعلق ہے یہ مسئلہ ابتدا سے اُمت میں متفق علیہ ہے اور اس میں کوئی اختلاف نہیں رہا ہے۔