مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

قربانی کی شرعی حیثیت

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ایک مبسوط مضمون ہے جس میں مولانا مودودی قربانی کی شرعی حیثیت پر جامع بحث کرتے ہیں۔ وہ سب سے پہلے قرآن مجید کی ان آیات کا جائزہ لیتے ہیں جو قربانی کو صرف حج کے مناسک تک محدود نہیں رکھتیں، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قولی و عملی ارشادات سے اس کی مشروعیت ثابت کرتے ہیں۔

اس کے بعد وہ فقہائے امت کی آراء کا خلاصہ پیش کرتے ہیں کہ اگرچہ قربانی کے واجب یا سنتِ مؤکدہ ہونے میں اختلاف ہے، مگر اس کے مشروع اور سنتِ متوارثہ ہونے پر تمام ائمہ متفق ہیں، اور امت کے متواتر عملی تسلسل کو اس کا سب سے مضبوط ثبوت قرار دیتے ہیں۔ آخر میں وہ اس معاشی اعتراض کا جواب بھی دیتے ہیں کہ قربانی پر خرچ ہونے والی رقم کو دیگر قومی مقاصد پر صرف کرنا زیادہ بہتر ہوگا، اور اسے ایک خالص مادہ پرستانہ ذہنیت کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔

قربانی کا حکم قرآن میں

سب سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ قربانی کے متعلق قرآن مجید کیا کہتا ہے۔ کیا وہ قربانی کو صرف حج اور متعلقات حج تک محدود رکھتا ہے، یا دوسرے حالات میں بھی اس کا حکم دیتا ہے؟ اس باب میں دو آیتیں بالکل صاف ہیں جن کا حج سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ پہلی آیت سورۂ انعام کے آخری رکوع میں ہے:

<<قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُکِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۙ لَا شَرِیْکَ لَهٗ وَ بِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ>> الانعام 6: 163

اے نبی! کہو کہ میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا سب کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے جس کا کوئی شریک نہیں، اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور سب سے پہلے سر اطاعت خم کرنے والا میں ہوں۔

یہ آیت مکہ معظمہ میں نازل ہوئی تھی جبکہ نہ حج فرض ہوا تھا نہ اس کے مراسم و مناسک مقرر ہوئے تھے۔ اور اس میں کوئی اشارہ بھی ایسا نہیں ہے جس سے یہ سمجھا جائے کہ اس حکم سے مراد حج میں قربانی کرنا ہے۔ نُسک کا لفظ جو اس آیت میں مستعمل ہوا ہے اسے خود قرآن مجید میں دوسری جگہ قربانی ہی کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے: <<فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيْضًا اَوْ بِهٖ اَذًى مِّنْ رَّأْسِهٖ فَفِدْيَةٌ مِّنْ صِيَامٍ اَوْ صَدَقَةٍ اَوْ نُسُكٍ>> (البقرہ 196:2) ”تم میں سے جو شخص سفرِ حج میں بیمار ہو جائے یا اس کے سر میں تکلیف ہو اور وہ سر منڈوا لے تو فدیے میں روزے رکھے، یا صدقہ دے یا قربانی کرے“۔ اس نظیر سے معلوم ہوا کہ سورۂ انعام کی مذکورہ بالا آیت میں بھی نُسک کے معنی قربانی کے ہیں۔ تاہم اگر اس لفظ کو عام عبادات کے معنی میں بھی لیا جائے تو قربانی کا مفہوم اس میں ضرور شامل مانا جائے گا۔

دوسری آیت سورۂ کوثر میں ہے:

<<فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ>> الکوثر 108 : 2

پس اپنے رب کے لیے نماز پڑھ اور قربانی کر۔

یہ آیت بھی مکی ہے اور اس میں کوئی اشارہ یا قرینہ ایسا نہیں ہے جس کی بنا پر کہا جا سکے کہ قربانی کا یہ حکم حج کے لیے خاص ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اہلِ لغت نے ”نحر“ کے معنی سینے پر ہاتھ باندھنے، اور قبلہ رُخ ہونے، اور اوّل وقت نماز پڑھنے کے بھی بیان کیے ہیں، لیکن یہ سب دُور کے معنی ہیں۔ عام فہم عربی میں اس لفظ کا مفہوم قربانی کرنا ہی لیا جاتا ہے۔

چنانچہ ”احکام القرآن“ میں علامہ جصاص لکھتے ہیں:

”جن لوگوں نے اس کے معنی اونٹ ذبح کرنے کے بیان کیے ہیں انھی کی بات صحیح ہے، کیونکہ اس لفظ کا حقیقی مفہوم یہی ہے اور مطلق لفظِ نحر سُن کر ایک عرب اس مفہوم کے سوا اور کوئی مفہوم نہ سمجھے گا۔ اگر کہا جائے کہ فلاں شخص نے آج نحر کیا ہے تو ہر شخص یہی سمجھے گا کہ اس نے آج اونٹ ذبح کیا، نہ یہ کہ اس نے آج بائیں ہاتھ پر سیدھا ہاتھ باندھا“ (جلد ۳ ص ۵۸۵)

یہی وجہ ہے کہ قرآن کے تمام مترجمین، شاہ ولی اللہ صاحب، شاہ عبد القادر صاحب، شاہ رفیع الدین صاحب، مولانا محمود الحسن، مولانا اشرف علی صاحب، ڈپٹی نذیر احمد صاحب وغیرہم نے بالاتفاق اس لفظ کا ترجمہ قربانی ہی کیا ہے۔