مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

خطبہ تقسیم اسناد

اشاعت: 1944ء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ۱۹۴۰ء میں پنجاب کے ایک اسلامیہ کالج کے جلسہ تقسیم اسناد کے موقع پر دیا گیا خطبہ ہے۔ مولانا مودودی اس بات کا برملا اعتراف کرتے ہوئے آغاز کرتے ہیں کہ وہ اس ادارے کے نظامِ تعلیم کے سخت مخالف ہیں، مگر اس کے باوجود انہیں اس تقریب میں مدعو کرنے پر ادارے کی وسیع القلبی کے معترف ہیں۔

وہ فارغ التحصیل طلبہ سے مخاطب ہوکر عملی زندگی میں قدم رکھنے والے نوجوانوں کو ایسی نصیحتیں کرتے ہیں جو رائج نظامِ تعلیم کی کوتاہیوں کے پیشِ نظر ان کی اصل ضرورت پر مبنی ہیں، تاکہ وہ محض ڈگری یافتہ افراد کے بجائے دین اور زندگی کی حقیقی سمجھ رکھنے والے کارآمد افراد بن سکیں۔

خطبہ تقسیم اسناد

(یہ خطبہ ۱۹۴۰ء میں پنجاب کے ایک اسلامیہ کالج میں تقسیم اسناد کی تقریب پر عرض کیا گیا تھا۔)

فاضل اساتذہ، معزز حاضرین اور عزیز طلبہ!

آپ کے اس جلسۂ تقسیم اسناد ( قدیم اصطلاح کے مطابق جلسۂ دستار بندی) میں مجھے اپنے خیالات کے اظہار کا جو موقع دیا گیا ہے اس کے لیے میں حقیقتاً بہت شکر گزار ہوں۔ حقیقتاً کا لفظ میں خصوصیت کے ساتھ اس لیے بول رہا ہوں کہ یہ شکر گزاری رسمی نہیں بلکہ حقیقی ہے، اور گہرے جذبۂ قدر شناسی پر مبنی ہے۔ جس نظام تعلیم کے تحت آپ کا یہ عالی شان ادارہ قائم ہے اور جس کے تحت تعلیم پا کر آپ کے کامیاب طلبہ سند فراغ حاصل کر رہے ہیں، میں اس کا سخت دشمن ہوں اور میری دشمنی کسی ایسے شخص سے چھپی ہوئی نہیں جو مجھے جانتا ہے۔ اس امر واقعی کے معلوم و معروف ہونے کے باوجود جب یہاں اس تقریب پر مجھے خطبہ عرض کرنے کے لیے مدعو کیا گیا تو فطری بات تھی کہ میرا دل ایسے لوگوں کے لیے قدر و اعتراف کے جذبے سے بھر جائے جو اپنے طریق کار کے دشمن کی باتیں سننے کے لیے بھی اپنے قلب میں کافی وسعت رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ مجھے آپ کی اس مہربانی پر بھی شکر گزار ہونا چاہیے کہ آپ نے مجھے عین اس وقت اپنی قوم کے ان نوجوانوں سے خطاب کرنے کا موقع دیا ہے جبکہ یہ آپ سے رخصت ہو کر ہماری طرف عملی زندگی کے میدان میں آنے والے ہیں۔

معزز سامعین! اب مجھے اجازت دیجیے کہ میں تھوڑی دیر کے لیے آپ کی طرف سے رُخ پھیر کر اپنے اُن عزیزوں سے مخاطب ہو جاؤں جو آج یہاں سے ڈگری لے رہے ہیں کیونکہ وقت کم ہے اور

< غریب شہر سخن ہائے گفتنی دارد!>

عزیزانِ من! آپ نے یہاں اپنی زندگی کے بہت سے قیمتی سال صرف کر کے تعلیم حاصل کی ہے۔ بڑی امنگوں کے ساتھ آپ اس وقت کا انتظار کر رہے تھے جبکہ آپ کو اپنی محنتوں کا پھل ایک ڈگری کی صورت میں یہاں سے ملنے والا ہے۔ ایسے موقع پر جسے آپ اپنے نزدیک مبارک موقع سمجھتے ہوں گے آپ کے جذبات کی نزاکت کا مجھے پورا احساس ہے، اور اسی لیے آپ کے سامنے اپنے خیالات کا صاف صاف اظہار کرتے ہوئے میرا دل دُکھتا ہے، مگر میں آپ سے خیانت کروں گا اگر محض نمائشی طور پر آپ کے جذبات کی رعایت کر کے وہ بات آپ سے نہ کہوں جو میرے نزدیک سچی ہے اور جس سے آپ کو آگاہ کرنا اس وقت، اور اسی وقت میں ضروری سمجھتا ہوں، کیونکہ اس وقت آپ اپنی زندگی کے ایک مرحلے سے گزر کر دُوسرے مرحلے کی طرف جا رہے ہیں۔ دراصل میں آپ کی اس مادرِ علمی کو...... اور مخصوص طور پر اسی کو نہیں بلکہ تمام مادرانِ علمی کو...... درسگاہ کے بجائے قتل گاہ سمجھتا ہوں۔ میرے نزدیک آپ فی الواقع یہاں قتل کیے جاتے رہے ہیں، اور یہ ڈگریاں جو آپ کو ملنے والی ہیں، یہ دراصل موت کے صداقت نامے (death certificates) ہیں جو قاتل کی طرف سے آپ کو اس وقت دیے جا رہے ہیں جبکہ وہ اپنی حد تک اس بات کا اطمینان کر چکا ہے کہ اس نے آپ کی گردن کا تسمہ تک لگا رہنے نہیں دیا ہے۔ اب یہ آپ کی اپنی خوش قسمتی ہے کہ اس منضبط اور منظم قتل گاہ سے بھی جان سلامت لے کر نکل آئیں۔ میں یہاں اس صداقت نامۂ موت کے حصول پر آپ کو مبارک باد دینے نہیں آیا ہوں بلکہ آپ کا ہم قوم ہونے کی وجہ سے جو ہمدردی قدرتی طور پر میں آپ کے ساتھ رکھتا ہوں وہ مجھے یہاں کھینچ لائی ہے۔ میری مثال اس شخص کی سی ہے جو اپنے بھائی بندوں کا قتلِ عام ہو چکنے کے بعد لاشوں کے ڈھیر میں یہ ڈھونڈتا پھرتا ہو کہ کہاں کوئی سخت جان بسمل ابھی سانس لے رہا ہے۔

یقین جانیے، یہ بات میں مبالغے کی راہ سے نہیں کہہ رہا ہوں۔ میں اخباری زبان میں ’’سنسنی‘‘ پیدا کرنا نہیں چاہتا۔ فی الواقع اس نظامِ تعلیم کے متعلق میرا نقطۂ نظر یہی ہے۔ اور اگر میں اس کو ذرا تفصیل کے ساتھ بتاؤں کہ میں کیوں اس نتیجے پر پہنچا ہوں، تو کیا عجب کہ آپ خود بھی مجھ سے اتفاق کرنے پر مجبور ہو جائیں۔

شاید آپ میں سے ہر شخص اس بات کو جانتا ہو گا کہ اگر کوئی پودا ایک جگہ سے اُکھاڑ کر دوسری ایسی جگہ لگا دیا جائے جہاں کی زمین، آب و ہوا، موسم، ہر چیز اس کی طبیعت کے خلاف ہو تو وہ وہاں کبھی جڑ نہ پکڑ سکے گا۔ یہ دوسری بات ہے کہ مصنوعی طور پر اس کے لیے وہی حالات پیدا کر دیے جائیں جو اس کی قدرتی جائے پیدائش میں تھے، لیکن ظاہر ہے کہ لیبارٹری کی مصنوعی زندگی ہر پودے کو تمام عمر کے لیے میسر نہیں آسکتی۔ اس غیر معمولی صورت حال کو نظر انداز کر دینے کے بعد یہ کہنا بالکل صحیح ہو گا کہ کسی پودے کو اس کی اصلی جائے پیدائش سے اُکھاڑنا اور ایک بالکل مختلف قسم کے ماحول میں لے جا کر لگا دینا دراصل اسے ہلاک کرنا ہے۔

اچھا! اب ذرا اُس بدقسمت پودے کی حالت کا اندازہ کیجیے جو اپنی زمین میں سے اُکھاڑا نہیں گیا، اپنے ماحول سے نکالا بھی نہیں گیا۔ وہی زمین ہے، وہی آب و ہوا ہے، وہی موسم ہے جس میں وہ پیدا ہوا تھا، مگر سائنٹفک طریقوں سے اُس کے اندر ایسی تبدیلی پیدا کر دی گئی کہ اپنی ہی جائے پیدائش میں اُس کی طبیعت اپنے وطن کی زمین، اُس کی آب و ہوا اور اُس کے موسم سے بے لگاؤ اور بیگانہ ہو کر رہ گئی، اور وہ اس قابل نہ رہا کہ اس زمین میں اپنی جڑیں پھیلا سکے، اس ہوا اور اس پانی سے غذا حاصل کر سکے اور اس موسم میں پھل پھول سکے۔ اس اندرونی تغیر کی وجہ سے وہ بعینہ ایسا ہو گیا جیسے کسی دوسری زمین کا پودا ہے اور اجنبی ماحول میں لاکر لگا دیا گیا ہے۔ اب وہ اس کا محتاج ہو گیا ہے کہ اس کے گرد مصنوعی فضا تیار کی جائے اور مصنوعی طور پر اس کی زندگی کا سامان کیا جائے۔ یہ لیبارٹری کی زندگی اگر اسے بہم نہ پہنچے تو وہ جہاں پیدا ہوا ہے، وہیں کھڑے کھڑے زمین چھوڑ دے گا اور مرجھا کر رہ جائے گا۔

پہلا فعل، یعنی ایک پودے کو اُکھاڑ کر اجنبی ماحول میں جا لگانا تو چھوٹے درجے کا ظلم ہے، مگر دوسرا فعل، یعنی ایک پودے کو اسی جگہ جہاں وہ پیدا ہوا ہے، اپنے ماحول سے اجنبی بنا دینا، اس سے عظیم تر ظلم ہے۔ اور جب ایک دو نہیں لاکھوں پودوں کے ساتھ یہی سلوک ہو رہا ہو، اور اتنے کثیرالتعداد پودوں کے لیے لیبارٹری کی مصنوعی فضا بہم پہنچانا محال ہو، تو بے جانہ ہوگا اگر اسے ظلم کے بجائے قتلِ عام کہا جائے۔

حقیقی صورت حال کا جو مطالعہ میں نے کیا ہے، وہ مجھے بتاتا ہے کہ ان درس گاہوں میں آپ کے ساتھ یہی کچھ ہو رہا ہے۔ آپ ہندوستان [ خیال رہے کہ یہ تقسیم ہند سے کئی سال پہلے کا خطبہ ہے۔]کی سر زمین میں مسلم سوسائٹی کے اندر پیدا ہوئے ہیں۔ یہی زمین، یہی تمدنی آب و ہوا، اور یہی تہذیبی ماحول ہے جس کی پیداوار آپ ہیں۔ آپ کے نشوونما پانے اور پھل پھول لانے کی اس کے سوا کوئی صورت نہیں کہ آپ اسی زمین میں جڑیں پھیلائیں اور اسی آب و ہوا سے زندگی کی طاقت حاصل کریں۔ اس ماحول سے آپ کو جتنی زیادہ مناسبت ہوگی، اسی قدر زیادہ بالیدگی آپ کو نصیب ہوگی اور اسی قدر زیادہ اس چمن کی بہار میں آپ اضافہ کریں گے، مگر واقعہ کیا ہے؟ یہاں جو تعلیم اور تربیت آپ کو ملتی ہے، جو ذہنیت آپ کے اندر پیدا ہوتی ہے، جو خیالات، جذبات اور داعیات آپ کے اندر پرورش پاتے ہیں، جو عادات، اطوار اور خصائل آپ میں راسخ ہوتے ہیں، اور جس طرزِ فکر، رنگِ طبیعت اور طریقِ زندگی کے سانچے میں آپ ڈھالے جاتے ہیں، کیا وہ سب مل جل کر اس زمین، اس آب و ہوا اور اس موسم سے کوئی مناسبت بھی آپ کے اندر باقی رہنے دیتے ہیں؟ یہ زبان جو آپ لکھتے اور بولتے ہیں، یہ لباس جو آپ پہنتے ہیں، یہ طرزِ زندگی جو آپ اختیار کرتے ہیں، یہ نظریات اور افکار جو آپ اس تعلیم سے حاصل کرتے ہیں، ان سب چیزوں کو آخر کون سا لگاؤ اُن کروڑوں بھائیوں کے ساتھ ہے جن کے درمیان آپ کا جینا اور مرنا ہے، اور اُس تمدن کے ساتھ ہے جو آپ کے چاروں طرف چھایا ہوا ہے؟ آپ کی شخصیت اس ماحول میں کس قدر بیگانہ، اور یہ ماحول آپ کی شخصیت کے لیے کتنا اجنبی ہے! کاش آپ کے اندر اتنی حس ہی باقی رہنے دی گئی ہوتی کہ آپ اس بیگانگی کو اور اس کی اذیت کو محسوس کر سکتے۔

آپ اتنا تو بآسانی سمجھ سکتے ہیں کہ خام اشیا کو صنعت اور کاریگری سے تیار کرنے کا مدعا یہی ہوتا ہے کہ وہ زندگی کے لیے کارآمد اور مفید بن سکیں۔ جو چیز اس طرح تیار کی گئی ہو کہ اُس سے یہ مدعا حاصل نہ ہو سکے، وہ خود بھی ضائع ہوئی، اور اس پر کاریگری بھی فضول صرف کی گئی۔ کپڑے پر خیاطی کی قابلیت اسی لیے صرف کی جاتی ہے کہ وہ جسم پر راست آئے۔ یہ بات حاصل نہ ہوئی تو اس کاریگری نے کپڑے کو بنایا نہیں، بگاڑ دیا۔ خام جنس پر طباخی کا فن صرف کرنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ کھانے کے قابل ہو جائے۔ اگر وہ کھانے ہی کے قابل نہ ہوئی تو باورچی نے اُسے ضائع کیا نہ کہ بنایا۔ بالکل اسی طرح تعلیم کا مدعا بھی یہ ہوتا ہے کہ سوسائٹی میں جن نئے انسانوں نے جنم لیا ہے، اور جن کی جبلی صلاحیتیں ابھی خام حالت میں ہیں، ان کو بنا سنوار کر اور بہتر طریقے پر نشوونما دے کر اس قابل بنا دیا جائے کہ جس سوسائٹی نے انھیں جنم دیا ہے، وہ اس کے مفید اور کارآمد فرد بن سکیں اور اس کی زندگی کے لیے بالیدگی اور فلاح و ترقی کا ذریعہ ہوں، مگر جو تعلیم افراد کو اپنی سوسائٹی اور اس کی حقیقی زندگی سے اجنبی بنا دے، اس کے حق میں اس کے سوا آپ اور کیا فتویٰ دے سکتے ہیں کہ وہ افراد کو بناتی نہیں بلکہ ضائع کرتی ہے؟ ہر قوم کے بچے دراصل اس کے مستقبل کا محضر ہوتے ہیں۔ قدرت کی طرف سے یہ محض ایک لوح سادہ کی شکل میں آتا ہے، اور قوم کو یہ اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ خود اس پر اپنے مستقبل کا فیصلہ لکھے۔ ہم وہ دیوالیہ قوم ہیں جو اس محضر پر اپنے مستقبل کا فیصلہ خود لکھنے کے بجائے اسے دوسروں کے حوالے کر دیتی ہے کہ وہ اس پر جو چاہیں ثبت کر دیں، خواہ وہ ہماری اپنی موت کا فتویٰ ہی کیوں نہ ہو۔

جب آپ کوئی کپڑا سلواتے ہیں اور وہ آپ کے جسم پر راست نہیں آتا تو مجبوراً آپ اُسے مارکیٹ میں لے جاتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اونے پونے بیچ کر کچھ دام ہی سیدھے کر لیں۔ اگر کپڑا کوئی ذی شعور ہستی ہو تو وہ خود بھی اپنا کوئی مصرف اس کے سوا نہیں سوچ سکتا کہ کہیں نہ کہیں اس کے سے ناپ اور اس کی سی تراش خراش کے کپڑے کی مانگ ہو تو وہ وہاں کھپ جائے۔ جب تک کسی جسم پر وہ راست نہ آئے گا، نیلام گھروں اور کباڑ خانوں میں مارا مارا پھرتا رہے گا۔ ایسا ہی حال اُن لوگوں کا بھی ہے جو ان درسگاہوں سے تیار ہو کر نکلتے ہیں۔ جس سوسائٹی نے انھیں تیار کرایا ہے اس کے پاس جب یہ تیار ہو کر واپس پہنچتے ہیں، تو وہ بھی محسوس کرتی ہے اور یہ خود بھی محسوس کرتے ہیں کہ یہ اُس کے تمدن اور اس کی زندگی کے لیے ٹھیک نہیں بنے۔ جس طرح معدہ اُس غذا کو قبول نہیں کرتا جو اس کے لیے مناسب نہ ہو۔ اسی طرح سوسائٹی بھی طبعی طور پر اُن افراد کو اپنے اندر کھپا نہیں سکتی جو اس کے لیے مناسب نہ ہوں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ان کو اپنے کام کا نہ پا کر نیلام کے لیے پیش کر دیتی ہے، جس قدر قیمت پر بھی یہ بک سکتے ہیں، بیچ ڈالتی ہے، اور یہ خود بھی اپنی زندگی کا کوئی مصرف اس کے سوا نہیں سمجھتے کہ کہیں بک جائیں۔ آپ غور تو کیجیے، کس قدر سخت خسارے میں ہے وہ قوم جو اپنی بہترین انسانی متاع دوسروں کے ہاتھ بیچتی ہے؟ ہم وہ زیاں کار لوگ ہیں جو انسان دے کر جوتا اور کپڑا اور روٹی حاصل کرتے ہیں! قدرت نے جو انسانی طاقت (man power) اور دماغی طاقت (brain power) ہم کو خود ہمارے اپنے کام کے لیے دی تھی وہ دوسروں کے کام آتی ہے۔ ان ہٹے کٹے جسموں میں جو قوت بھری ہوئی ہے، ان بڑے بڑے سروں میں جو قابلیتیں بھری ہوئی ہیں، ان چوڑے چکلے سینوں میں جو دل طرح طرح کی طاقتیں رکھتے ہیں، جنھیں خدا نے ہمارے لیے عطا کیا تھا، ان میں سے بمشکل ایک دو فی صدی ہمارے کام آتے ہیں، باقی سب کو دوسرے خرید لے جاتے ہیں۔ اور لطف یہ ہے کہ اس خسارے کی تجارت کو ہم بڑی کامیابی سمجھ رہے ہیں۔ کسی کی سمجھ میں نہیں آتا کہ ہمارا اصل سرمایہ زندگی تو یہی انسانی طاقت ہے۔ اسے بیچنا نفع کا سودا نہیں بلکہ سراسر ٹوٹا ہے۔

مجھے بکثرت ایسے نوجوانوں سے ملنے کا موقع ملتا ہے جو اعلیٰ تعلیم پا رہے ہیں، یا تازہ تازہ فارغ ہوئے ہیں۔ سب سے پہلے میں یہ تحقیق کرنے کی کوشش کرتا ہوں کہ انھوں نے اپنی زندگی کا کوئی مقصد بھی معین کیا ہے یا نہیں، مگر میری مایوسی کی انتہا نہیں رہتی جب میں یہ دیکھتا ہوں کہ مشکل سے ہزاروں میں کوئی ایک ایسا ملتا ہے جو اپنے سامنے زندگی کا کوئی مقصد رکھتا ہو، بلکہ بیشتر اصحاب تو ایسے ہیں جن کے ذہن میں اس امر کا سرے سے کوئی تصور ہی نہیں ہے کہ انسانی زندگی کا کوئی مقصد بھی ہونا چاہیے یا ہوسکتا ہے۔ مقصد کے سوال کو وہ محض فلسفیانہ یا شاعرانہ سمجھتے ہیں اور عملی حیثیت سے یہ طے کرنے کی کوئی ضرورت اُن کو محسوس نہیں ہوتی کہ آخر دنیا کی زندگی میں ہماری کوششوں اور محنتوں کا اور ہماری تمام دوڑ دھوپ کا کوئی منتہا (goal) اور کوئی مقصود بھی ہونا چاہیے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی یہ حالت دیکھ کر میرا سر چکرانے لگتا ہے۔ میں حیران ہو کر سوچنے لگتا ہوں کہ اُس نظامِ تعلیم کو کس نام سے یاد کروں جو پندرہ بیس سال مسلسل دماغی تربیت کے بعد بھی انسان کو اس قابل نہیں بناتا کہ وہ اپنی قوتوں اور قابلیتوں کا کوئی مصرف اور اپنی کوششوں کا کوئی مقصود معین کر سکے، بلکہ زندگی کے لیے کسی نصب العین کی ضرورت ہی محسوس کر سکے۔ یہ انسانیت کو بنانے والی تعلیم ہے یا اس کو قتل کرنے والی؟ بے مقصد (aimless) زندگی بسر کرنا تو حیوانات کا کام ہے۔ اگر آدمی بھی صرف اس لیے جیے کہ جینا ہے، اور اپنی قوتوں کا مصرف بقائے نفس اور تناسل کے سوا کچھ نہ سمجھے تو آخر اس میں اور دوسرے حیوانات میں کیا فرق باقی رہا۔

میری اس تنقید کا یہ مُدعا ہرگز نہیں ہے کہ آپ کو ملامت کروں! ملامت تو قصور وار کو کی جاتی ہے اور آپ قصور وار نہیں بلکہ مظلوم ہیں، اس لیے میں دراصل آپ کی ہمدردی میں یہ سب کچھ کہہ رہا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ اب جو آپ زندگی کے عملی میدان میں قدم رکھنے کے لیے جارہے ہیں تو پوری طرح اپنا جائزہ لے کر دیکھ لیں کہ فی الواقع اس مرحلے پر آپ کس پوزیشن میں ہیں !!

آپ ملّتِ اسلام کے افراد ہیں۔ یہ ملّت کوئی نسلی قومیت نہیں ہے کہ جو اس میں پیدا ہو وہ آپ سے آپ مسلم ہو۔ یہ محض ایک ایسے تمدنی گروہ (cultural group) کا نام بھی نہیں ہے جس کے ساتھ محض معاشرتی حیثیت سے وابستہ ہونا مسلم ہونے کے لیے کافی ہو۔ دراصل اسلام ایک مخصوص نظامِ فکر (Ideology) کا نام ہے جس کی بنیاد پر تمدنی زندگی اپنے تمام شعبوں اور پہلوؤں کے ساتھ تعمیر ہوتی ہے، اس ملّت کا بقا بالکل اس بات پر منحصر ہے کہ جو افراد اس میں شامل ہوں، وہ اس نظامِ فکر کو سمجھتے ہوں، اس کی رُوح سے آشنا ہوں اور اپنی تمدنی زندگی کے ہر شعبے میں اس رُوح کی عملی تفسیر و تعبیر پیش کرنے پر قادر بھی ہوں اور آمادہ بھی۔ خصوصیت کے ساتھ ملّت کے اہلِ دماغ طبقے (intelligentsia) کے لیے تو سب سے بڑھ کر اس علم و فہم اور اس عمل کی ضرورت ہے، کیونکہ یہی طبقہ ملّت کا رہنما اور پیش رَو ہے۔ اگرچہ ہر قوم اور ہر گروہ کو اس کی ضرورت ہوتی ہے کہ اس کا اہلِ دماغ طبقہ اس کی مخصوص قومی تہذیب کے رنگ میں پوری طرح رنگا ہوا ہو، لیکن ملّتِ اسلام کو اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، کیونکہ یہاں ہماری انفرادیت (individuality) کی اساس نہ خاک ہے، نہ خون، نہ رنگ، نہ زبان، نہ کوئی اور مادّی چیز، بلکہ صرف اسلام ہے۔ ہمارے زندہ رہنے اور ترقی کرنے کی کوئی صورت اس کے سوا نہیں ہے کہ ہماری ملّت کے افراد، اور خصوصاً اہلِ دماغ طبقے، اسلامی طرزِ فکر اور اسلامی طرزِ عمل کے سانچے میں ڈھلے ہوئے ہوں! اس لحاظ سے ان کی تعلیم اور تربیت میں جتنی اور جیسی کمزوری ہوگی، اس کا عکس ہماری ملّت کی زندگی میں جوں کا توں نمودار ہوگا اور اگر وہ اس سے بالکل خالی ہوں تو یہ دراصل ہماری موت کا نشان ہوگا!

یہ وہ حقیقت ہے جس سے یہاں کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا، مگر کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ موجودہ نظامِ تعلیم میں ملّتِ اسلام کے نونہالوں کی تعلیم و تربیت کے لیے جو انتظام کیا جاتا ہے وہ دراصل اُن کو اس ملّت کی پیشوائی کے لیے نہیں بلکہ اس کی غارت گری کے لیے تیار کرتا ہے؟ ان درس گاہوں میں آپ کو فلسفہ، سائنس، معاشیات، قانون، سیاسیات، تاریخ اور دوسرے تمام وہ علوم پڑھائے جاتے ہیں جن کی مارکیٹ میں مانگ ہے، مگر آپ کو اسلام کے فلسفے، اسلام کی اساسِ حکمت، اسلام کے اصولِ معیشت، اسلام کے اصولِ قانون، اسلام کے نظریۂ سیاسی اور اسلام کی تاریخ اور فلسفۂ تاریخ کی ہوا تک نہیں لگنے پاتی۔ اس کا نتیجہ کیا ہوتا ہے؟ آپ کے ذہن میں زندگی کا پورا نقشہ اپنے تمام جزئیات اور تمام پہلوؤں کے ساتھ بالکل غیر اسلامی خطوط پر بنتا ہے۔ آپ غیر اسلامی طرز پر سوچنے لگتے ہیں۔ غیر اسلامی نقطۂ نظر سے زندگی کے ہر معاملے کو دیکھتے ہیں اور دیکھنے پر مجبور ہوتے ہیں، کیونکہ اسلامی نقطۂ نظر کبھی آپ کے سامنے آتا ہی نہیں۔ منتشر طور پر کچھ معلومات اسلام کے متعلق آپ تک پہنچتی ہیں، مگر وہ غیر مستند اور بسا اوقات غلط اوہام و خرافات کے ساتھ ملی جلی ہوتی ہیں۔ ان معلومات سے اس کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا کہ آپ ذہنی طور پر اسلام سے اور زیادہ بعید ہو جاتے ہیں۔ آپ میں سے جو لوگ محض آبائی مذہب کی وجہ سے اسلام کے ساتھ گہری عقیدت رکھتے ہیں، وہ دماغی طور پر غیر مسلم ہو جانے کے باوجود کسی نہ کسی طرح اپنے دل کو سمجھاتے رہتے ہیں کہ اسلام حق تو ضرور ہوگا، اگرچہ سمجھ میں نہیں آتا۔ اور جو لوگ اس عقیدت سے بھی خالی ہو چکے ہیں، وہ اسلام پر اعتراض کرنے اور اس کا مذاق اڑانے سے بھی نہیں چوکتے۔

اس قسم کی تعلیم پانے کے ساتھ عملاً جو تربیت آپ کو میسر آتی ہے، جس ماحول میں آپ گھرے رہتے ہیں، اور عملی زندگی کے جن نمونوں سے آپ کو واسطہ پیش آتا ہے، اُن میں مشکل ہی سے کہیں اسلامی سیرت و اخلاق اور اسلامی طرزِ عمل کا نشان پایا جاتا ہے۔ اب یہ ظاہر ہے کہ جن لوگوں کو نہ علمی حیثیت سے اسلام کی واقفیت بہم پہنچائی گئی ہو، نہ عملی حیثیت سے اسلامی تربیت دی گئی ہو، وہ فرشتے تو نہیں ہیں کہ خود بخود مسلمان بن کر اُٹھیں۔ ان پر وحی تو نازل نہیں ہوتی کہ خود بخود ان کے دل میں علم دین ڈال دیا جائے۔ وہ پانی اور ہوا سے تو اسلامی تربیت اخذ نہیں کر سکتے۔ اگر وہ فکر اور عمل دونوں حیثیتوں سے غیر اسلامی شان رکھتے ہیں، تو یہ اُن کا قصور نہیں بلکہ ان درس گاہوں کا قصور ہے جو موجودہ نظامِ تعلیم کے ماتحت قائم کی گئی ہیں۔ درحقیقت یہ میرا وجدان ہے، جیسا کہ میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ ان درس گاہوں میں دراصل آپ کو ذبح کیا جاتا ہے اور اس ملت کی قبر کھودی جاتی ہے جس کے نونہال آپ ہیں۔ آپ نے جس سوسائٹی میں جنم لیا، جس کے خرچ پر تعلیم پائی، جس کی فلاح کے ساتھ آپ کی فلاح اور جس کی زندگی کے ساتھ آپ کی زندگی وابستہ ہے، اس کے لیے آپ بیکار بنا کر رکھ دیے گئے ہیں۔ آپ کو صرف یہی نہیں کہ اس کی فلاح کے لیے کام کرنے کے قابل نہیں بنایا گیا، بلکہ دراصل آپ کو باضابطہ اور منظم طریقے پر ایسا بنا دیا گیا ہے کہ بلا ارادہ آپ کی ہر حرکت اس ملّت کے لیے فتنہ ساماں ہو، حتیٰ کہ آپ اس کی خیر خواہی کے لیے بھی کچھ کرنا چاہیں تو وہ اس کے حق میں مضر ثابت ہو، اس لیے کہ آپ اس کی فطرت سے بیگانہ اور اس کے ابتدائی اُصولوں تک سے بیگانہ رکھے گئے ہیں اور آپ کی پوری دماغی تربیت اُس نقشے پر کی گئی ہے جو ملّتِ اسلام کے نقشے کے بالکل برعکس ہے۔

اپنی اس پوزیشن کو اگر آپ سمجھ لیں، اور اگر آپ کو پوری طرح احساس ہو جائے کہ فی الواقع کس قدر خطرناک حالت کو پہنچا کر اب آپ کو کارزار زندگی کی طرف جانے کے لیے چھوڑا جا رہا ہے، تو مجھے یقین ہے کہ آپ کچھ نہ کچھ تلافیٔ مافات کی کوشش ضرور کریں گے۔ پوری تلافی تو شاید اب بہت ہی مشکل ہے، تاہم میں آپ کو تین باتوں کا مشورہ دوں گا جن سے آپ کافی فائدہ اٹھا سکتے ہیں:

(۱) جہاں تک ممکن ہو عربی زبان سیکھنے کی کوشش کیجیے، کیونکہ اسلام کا ماخذ اصلی، یعنی قرآن اسی زبان میں ہے اور اس کو جب تک آپ اس کی اپنی زبان میں نہ پڑھیں گے، اسلام کا نظامِ فکر کبھی آپ کی سمجھ میں پوری طرح نہ آسکے گا۔ عربی زبان کی تعلیم کا پرانا ہولناک طریقہ اب غیر ضروری ہو گیا ہے۔ جدید طرزِ تعلیم سے آپ چھ مہینے میں اتنی عربی سیکھ سکتے ہیں کہ قرآن کی عبارت سمجھنے لگیں۔

(۲) قرآن مجید، سیرتِ رسولؐ اور صحابہ کرام کی زندگی کا مطالعہ اسلام کو سمجھنے کے لیے ناگزیر ہے۔ جہاں آپ نے اپنی زندگی کے ۱۲، ۱۵ سال دوسری چیزوں کے پڑھنے میں ضائع کیے ہیں، وہاں اس سے آدھا بلکہ چوتھائی وقت ہی اس چیز کے سمجھنے میں صرف کر دیجیے جس پر آپ کی ملّت کی اساس قائم ہے، اور جس کو جانے بغیر آپ اس ملّت کے کسی کام نہیں آسکتے۔

(۳) جو کچھ بھلی یا بُری رائے آپ نے ناکافی اور منتشر معلومات کی بنا پر اسلام کے متعلق قائم کر رکھی ہو، اس سے اپنے ذہن کو خالی کر کے اس کا باقاعدہ مطالعہ (systematic study) کیجیے، پھر جس رائے پر بھی آپ پہنچیں گے، وہ قابلِ وقعت ہوگی۔ تعلیم یافتہ آدمیوں کے لیے یہ کسی طرح موزوں نہیں ہے کہ وہ کسی چیز کے متعلق کافی معلومات حاصل کیے بغیر رائے قائم کریں۔

اب میں اس دُعا کے ساتھ اپنا یہ خطبہ ختم کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کی مدد کرے اور آپ کو اس خطرے سے بچائے جس میں آپ پھنسا دیے گئے ہیں۔

ترجمان القرآن

(محرم، صفر ۱۳۶۳ھ بمطابق جنوری، فروری ۱۹۴۴ء)